بیانِ شانِ ولادت شہِ لولاکﷺ
واللہ عجب شانِ شہنشاہِ رُسل ہے
اس گلشنِ ایجاد کا پہلا وہی گُل ہے
اس شاہ کے اوصاف کا کونین میں غُل ہے
سب جزو کُل اجزاء ہیں، اُسی کا وہی کُل ہے
ہر چند کہ ہے وہ خلفِ آدمؑ و حوّا
بر حق نے کیا ہے شرفِ آدمؑ و حوّا
اُس شاہ سے کونین میں بہتر نہیں کوئی
بہتر کا تو کیا ذکر ہے ہمسر نہیں کوئی
حق یہ ہے کہ ایسا تو پیمبر نہیں کوئی
جرّار و بہادر نہیں صفدر نہیں کوئی
ادنیٰ سا یہ رتبہ ہے جسے ذکر کیا ہے
بوذر کو شرف اس کی غلامی سے ملا ہے
خالق نےکیا اس کو ملائک سے بھی افضل
آخر کِیا معبوث،۔ تو پیدا ہوا اول
واں پہنچا جہاں کوئی بھی پہنچا نہیں مُرسل
پہنچے نہ فرشتے بھی بھلا اور کا کیا دخل
سب معجزے تھے اس میں رسولانِ سلف کے
پہچانا کسی نے نہ سوا شاہِ نجف کے
پُر نور سدا رہتی تھی پیشانئ انور
اُس نور سے رہتے در و دیوار منور
جب اپنے کبھی ہاتھ اٹھاتے تھے پیمبر
ضو انگلیوں کی دیکھتے تھے لوگ برابر
اُس نور کا کیا وصف کروں میں کہ وہ کیا تھا
وہ نورِ خدا، نورِ خدا، نورِ خدا تھا
آتی تھی یہ خوشبو تنِ محبوبِ خدا سے
بے قدر ہے تشبیہ جو دوں عطرِ حِنا سے
بو باس ہے گلشن میں اسی زلفِ رسا سے
کوچے جو مہکتے گزرِ شاہِ ہُدا سے
سب کہتے تھے اِس راہ میں خوشبو جو سوا ہے
شاید گزرِ احمدِﷺ مختار ہوا ہے
لکھا ہے یہ تھا معجزۂ خاص پیمبر
سر پر سے نہ نکلا کوئی طائر کبھی اڑ کر
بیٹھی نہ مگس بھی کبھی حضرت کے بدن پر
تھے نور میں اعضائے مبارک بھی برابر
کوئی عقبِ پشت اگر جاتا تھا چھپ کر
حضرت کو نظر آتا تھا وہ شخص برابر
بیداری و خواب آپ کا ہر حال تھا یکساں
سونے سے نہ رہتے تھے معطل کسی عنواں
سنتا تھا ملائک کے سخن وہ شہِ ذیشاں
جو سنتے تھے حضرت نہ کوئی سنتا تھا انساں
حضرت کو صدا شکل دکھاتے تھے فرشتے
اوروں کو نہ ہرگز نظر آتے تھے فرشتے
بے شک تھا عبور آپ کو ہر ایک لغت پر
کرتے تھے سخن ساری زبانوں میں پیمبر
ہر انگلی سے پانی بھی رواں ہوتا تھا اکثر
ہو جاتے تھے سیراب ہزاروں اسے پی کر
یہ معجزہ خالق سے ملا خیرِ بشر کو
اک انگلی سے دو ٹکڑے کیا قُرض قمر کو
آیا ہے روایات و خبر میں یہ سراسر
پیدا ہوۓ جب سرورِ دیں شافعِ محشر
خوشبو سے بدن کی ہوئے آفاق معطّر
قبلہ کی طرف سجدۂ خالق میں رکھا سر
ہاتھ آپ نے اونچے کئے صدق و دل و جاں سے
توحیدِ خدا کا کیا اقرار زباں سے
آگاہ ہیں سب، آمنہ سے ہے یہ روایت
فرماتی تھیں اس طرح سے وہ صاحبِ عصمت
میں جب کہ ہوئی حاملۂ شاہِ رسالت
مطلق نہ ہوئی جو کہ ہے عورات کی عادت
مونس تھا یہ فرزند مِرا درد و الم میں
کرتا تھا سدا ذکرِ خدا میرے شکم میں
جب وقتِ ولادت ہوا نزدیک تو اس دم
کچھ عورتیں آئیں مِرے گھر میں خوش و خرم
شکلیں تھیں مثالِ قمر اور زلف تھی پُرخم
وہ سب تھیں فرستادۂ خلاقِ دو عالم
مانندِ گہر دانت تھے ان کے دہنوں میں
پوشاک ہر اک رنگ کی پہنے بدنوں میں
تھا ہاتھ میں ہر ایک کے اک کاسۂ شربت
تھی کاسے میں خوشبو صقتِ گُلشنِ جنت
کی میری طرف پینے کو شربت کی اشارت
میں نے پیا شربت تو یہ دی مجھ کو بشارت
بی بی تِرا فرزند یہ مقبولِ خدا ہے
بہتر کوئی اس شہ سے نہ ہوگا نہ ہوا ہے
پیدا ہوئے جب بطن سے میرے شہِ مرداں
مسکن تھا مِرا شعبِ ابو طالبِ ذیشاں
مکہ میں تو پیدا ہوا وہ خاصۂ یزداں
تا مغرب و مشرق ہوا اک نور درخشاں
مملو ہوئے یہ چودہ طبق ذکرِ ملک سے
گھر میں مِرے اک ابر اُتر آیا فلک سے
اُس ابر نے گودی میں محمدﷺ کو اٹھا کر
سب خلق کو دکھلا دیا وہ روئے منوّر
اس دم تھا یہی خواستۂ حضرتِ داور
تا دیکھ لیں سب صورتِ بے مثلِ پیمبر
آدم کی طرح چہرۂ پُر نور صفا تھا
اور حسن میں تو حضرتِ یوسف سے سوا تھا
خالق نے عنایت کی انہیں نوح کی رفعت
بخشی انہیں مانندِ خلیل الفت و خُلت
کی صورتِ داؤد عطا ان پہ عنایت
بخشی انہیں یعقوب کی مانند بشارت
بس زُہد نبی زہد سے یحییٰ کے نہ کم تھا
اور عیسیٰ و مریم کی طرح ان میں کرم تھا
پھر تین جواں ماہ کی صورت نظر آئے
وہ طشت اور اِبریق تھے ہاتھوں میں اُٹھائے
محبوبِ خدا ہاتھوں سے پھر ان کے نہائے
انگشترِ پُر نور بھی وہ ساتھ تھے لائے
کَتفینِ پیمبر سے جو اک نور عیاں تھا
وہ مہرِ نبوبت اس انگھوٹی کا نشاں تھا
ہے جد سے پیمبر کے روایت یہ سنو اب
کہتے ہیں میں سوتا تھا قریں کعبہ کے اس شب
ارکان جو تھے کعبہ کے کندہ ہوئے وہ سب
سجدہ جو انہوں نے کیا حیراں میں ہوا تب
قائم ہوئے پھر اپنی جگہ عزّ و شرف سے
تکبیر کی آواز تھی ہر چار طرف سے
میں خواب سے چونکا تو نظر آئی یہ روداد
اک ابر سپید آمنہ کے گھر پہ ہے اُستاد
آواز یہی دیتا ہے ہاتف بدلِ شاد
پیدا ہوا جبریل کے استاد کا استاد
خوش خوش میں چلا آمنہ کے گھر کی طرف کو
حسرت تھی یہی دیکھ لوں میں اپنے خلف کو
ہاتف کی ندا آئی میرے کان میں اک بار
تُو تین دن اس کو نہ کبھی دیکھے گا زنہار
از بس کہ ہیں مشتاقِ لقائے شہِ ابرار
آتے ہیں زیارت کو ملائک وہاں ہر بار
کر لیں گے فرشتے جو زیارت شہِ دیں کی
تب آۓ گی باری کہیں پھر اہلِ زمیں کی
جب آئے جہاں میں قدمِ احمدِ مختارﷺ
تاثیر گئی سِحر کی، کاہن ہوئے بے کار
اوندھے ہوۓ بُت خوف سے لرزاں ہوئے کُفار
ہر جا سے تشہد کی صدا آتی تھی ہر بار
یہ معجزہ مابینِ سماوات ہے مشہور
کسرا کا محل گر پڑا یہ بات ہے مشہور
ہر دن یہ نموئے شہِ لولاکﷺ کا تھا حال
اک ہفتہ میں جس طرح نمو کرتے ہیں اطفال
ہر ہفتہ میں یوں بڑھتا تھا وہ شاہِ خوش اقبال
اطفال پہ جس طرح گزر جاتا ہے اک سال
تعلیم کسی نے نہ کیا علم و ادب کا
استادِ ازل نے انہیں بتلا دیا سب تھا
میر انیس
واللہ عجب شانِ شہنشاہِ رُسل ہے
اس گلشنِ ایجاد کا پہلا وہی گُل ہے
اس شاہ کے اوصاف کا کونین میں غُل ہے
سب جزو کُل اجزاء ہیں، اُسی کا وہی کُل ہے
ہر چند کہ ہے وہ خلفِ آدمؑ و حوّا
بر حق نے کیا ہے شرفِ آدمؑ و حوّا
اُس شاہ سے کونین میں بہتر نہیں کوئی
بہتر کا تو کیا ذکر ہے ہمسر نہیں کوئی
حق یہ ہے کہ ایسا تو پیمبر نہیں کوئی
جرّار و بہادر نہیں صفدر نہیں کوئی
ادنیٰ سا یہ رتبہ ہے جسے ذکر کیا ہے
بوذر کو شرف اس کی غلامی سے ملا ہے
خالق نےکیا اس کو ملائک سے بھی افضل
آخر کِیا معبوث،۔ تو پیدا ہوا اول
واں پہنچا جہاں کوئی بھی پہنچا نہیں مُرسل
پہنچے نہ فرشتے بھی بھلا اور کا کیا دخل
سب معجزے تھے اس میں رسولانِ سلف کے
پہچانا کسی نے نہ سوا شاہِ نجف کے
پُر نور سدا رہتی تھی پیشانئ انور
اُس نور سے رہتے در و دیوار منور
جب اپنے کبھی ہاتھ اٹھاتے تھے پیمبر
ضو انگلیوں کی دیکھتے تھے لوگ برابر
اُس نور کا کیا وصف کروں میں کہ وہ کیا تھا
وہ نورِ خدا، نورِ خدا، نورِ خدا تھا
آتی تھی یہ خوشبو تنِ محبوبِ خدا سے
بے قدر ہے تشبیہ جو دوں عطرِ حِنا سے
بو باس ہے گلشن میں اسی زلفِ رسا سے
کوچے جو مہکتے گزرِ شاہِ ہُدا سے
سب کہتے تھے اِس راہ میں خوشبو جو سوا ہے
شاید گزرِ احمدِﷺ مختار ہوا ہے
لکھا ہے یہ تھا معجزۂ خاص پیمبر
سر پر سے نہ نکلا کوئی طائر کبھی اڑ کر
بیٹھی نہ مگس بھی کبھی حضرت کے بدن پر
تھے نور میں اعضائے مبارک بھی برابر
کوئی عقبِ پشت اگر جاتا تھا چھپ کر
حضرت کو نظر آتا تھا وہ شخص برابر
بیداری و خواب آپ کا ہر حال تھا یکساں
سونے سے نہ رہتے تھے معطل کسی عنواں
سنتا تھا ملائک کے سخن وہ شہِ ذیشاں
جو سنتے تھے حضرت نہ کوئی سنتا تھا انساں
حضرت کو صدا شکل دکھاتے تھے فرشتے
اوروں کو نہ ہرگز نظر آتے تھے فرشتے
بے شک تھا عبور آپ کو ہر ایک لغت پر
کرتے تھے سخن ساری زبانوں میں پیمبر
ہر انگلی سے پانی بھی رواں ہوتا تھا اکثر
ہو جاتے تھے سیراب ہزاروں اسے پی کر
یہ معجزہ خالق سے ملا خیرِ بشر کو
اک انگلی سے دو ٹکڑے کیا قُرض قمر کو
آیا ہے روایات و خبر میں یہ سراسر
پیدا ہوۓ جب سرورِ دیں شافعِ محشر
خوشبو سے بدن کی ہوئے آفاق معطّر
قبلہ کی طرف سجدۂ خالق میں رکھا سر
ہاتھ آپ نے اونچے کئے صدق و دل و جاں سے
توحیدِ خدا کا کیا اقرار زباں سے
آگاہ ہیں سب، آمنہ سے ہے یہ روایت
فرماتی تھیں اس طرح سے وہ صاحبِ عصمت
میں جب کہ ہوئی حاملۂ شاہِ رسالت
مطلق نہ ہوئی جو کہ ہے عورات کی عادت
مونس تھا یہ فرزند مِرا درد و الم میں
کرتا تھا سدا ذکرِ خدا میرے شکم میں
جب وقتِ ولادت ہوا نزدیک تو اس دم
کچھ عورتیں آئیں مِرے گھر میں خوش و خرم
شکلیں تھیں مثالِ قمر اور زلف تھی پُرخم
وہ سب تھیں فرستادۂ خلاقِ دو عالم
مانندِ گہر دانت تھے ان کے دہنوں میں
پوشاک ہر اک رنگ کی پہنے بدنوں میں
تھا ہاتھ میں ہر ایک کے اک کاسۂ شربت
تھی کاسے میں خوشبو صقتِ گُلشنِ جنت
کی میری طرف پینے کو شربت کی اشارت
میں نے پیا شربت تو یہ دی مجھ کو بشارت
بی بی تِرا فرزند یہ مقبولِ خدا ہے
بہتر کوئی اس شہ سے نہ ہوگا نہ ہوا ہے
پیدا ہوئے جب بطن سے میرے شہِ مرداں
مسکن تھا مِرا شعبِ ابو طالبِ ذیشاں
مکہ میں تو پیدا ہوا وہ خاصۂ یزداں
تا مغرب و مشرق ہوا اک نور درخشاں
مملو ہوئے یہ چودہ طبق ذکرِ ملک سے
گھر میں مِرے اک ابر اُتر آیا فلک سے
اُس ابر نے گودی میں محمدﷺ کو اٹھا کر
سب خلق کو دکھلا دیا وہ روئے منوّر
اس دم تھا یہی خواستۂ حضرتِ داور
تا دیکھ لیں سب صورتِ بے مثلِ پیمبر
آدم کی طرح چہرۂ پُر نور صفا تھا
اور حسن میں تو حضرتِ یوسف سے سوا تھا
خالق نے عنایت کی انہیں نوح کی رفعت
بخشی انہیں مانندِ خلیل الفت و خُلت
کی صورتِ داؤد عطا ان پہ عنایت
بخشی انہیں یعقوب کی مانند بشارت
بس زُہد نبی زہد سے یحییٰ کے نہ کم تھا
اور عیسیٰ و مریم کی طرح ان میں کرم تھا
پھر تین جواں ماہ کی صورت نظر آئے
وہ طشت اور اِبریق تھے ہاتھوں میں اُٹھائے
محبوبِ خدا ہاتھوں سے پھر ان کے نہائے
انگشترِ پُر نور بھی وہ ساتھ تھے لائے
کَتفینِ پیمبر سے جو اک نور عیاں تھا
وہ مہرِ نبوبت اس انگھوٹی کا نشاں تھا
ہے جد سے پیمبر کے روایت یہ سنو اب
کہتے ہیں میں سوتا تھا قریں کعبہ کے اس شب
ارکان جو تھے کعبہ کے کندہ ہوئے وہ سب
سجدہ جو انہوں نے کیا حیراں میں ہوا تب
قائم ہوئے پھر اپنی جگہ عزّ و شرف سے
تکبیر کی آواز تھی ہر چار طرف سے
میں خواب سے چونکا تو نظر آئی یہ روداد
اک ابر سپید آمنہ کے گھر پہ ہے اُستاد
آواز یہی دیتا ہے ہاتف بدلِ شاد
پیدا ہوا جبریل کے استاد کا استاد
خوش خوش میں چلا آمنہ کے گھر کی طرف کو
حسرت تھی یہی دیکھ لوں میں اپنے خلف کو
ہاتف کی ندا آئی میرے کان میں اک بار
تُو تین دن اس کو نہ کبھی دیکھے گا زنہار
از بس کہ ہیں مشتاقِ لقائے شہِ ابرار
آتے ہیں زیارت کو ملائک وہاں ہر بار
کر لیں گے فرشتے جو زیارت شہِ دیں کی
تب آۓ گی باری کہیں پھر اہلِ زمیں کی
جب آئے جہاں میں قدمِ احمدِ مختارﷺ
تاثیر گئی سِحر کی، کاہن ہوئے بے کار
اوندھے ہوۓ بُت خوف سے لرزاں ہوئے کُفار
ہر جا سے تشہد کی صدا آتی تھی ہر بار
یہ معجزہ مابینِ سماوات ہے مشہور
کسرا کا محل گر پڑا یہ بات ہے مشہور
ہر دن یہ نموئے شہِ لولاکﷺ کا تھا حال
اک ہفتہ میں جس طرح نمو کرتے ہیں اطفال
ہر ہفتہ میں یوں بڑھتا تھا وہ شاہِ خوش اقبال
اطفال پہ جس طرح گزر جاتا ہے اک سال
تعلیم کسی نے نہ کیا علم و ادب کا
استادِ ازل نے انہیں بتلا دیا سب تھا
میر انیس
No comments:
Post a Comment