Showing posts with label جوش ملسیانی. Show all posts
Showing posts with label جوش ملسیانی. Show all posts

Sunday, 13 August 2023

وطن کی سر زمیں سے عشق و الفت ہم بھی رکھتے ہیں

 وطن کی سر زمیں سے عشق و الفت ہم بھی رکھتے ہیں

کھٹکتی جو رہے دل میں وہ حسرت ہم بھی رکھتے ہیں

ضرورت ہو تو مر مٹنے کی ہمت ہم بھی رکھتے ہیں

یہ جرأت، یہ شجاعت، یہ بسالت ہم بھی رکھتے ہیں

زمانے کو ہلا دینے کے دعوے باندھنے والو

زمانے کو ہلا دینے کی طاقت ہم بھی رکھتے ہیں

Monday, 7 November 2016

نالۂ جاں گداز نے مارا

نالۂ جاں گداز نے مارا
سوزِ الفت کے ساز نے مارا
یہ کہا پڑھ کے میرا نامۂ شوق
اس سراپا نیاز نے مارا
منہ سے اف بھی تو کر نہیں سکتے
خوفِ افشائے راز نے مارا

حوادث پر نہ اے ناداں نظر کر

حوادث پر نہ اے ناداں! نظر کر
قضا سے جنگ بے خوف و خطر کر
معافی بھی سزا سے کم نہیں ہے
بس اب اس درگزر سے درگزر کر
جہاں ڈوبی تھی کشتی آرزو کی
اسی گرداب میں نکلی ابھر کر

تیری یاد میں کب قیامت نہ ٹوٹی

تیری یاد میں کب قیامت نہ ٹوٹی تِرے غم میں کب حشر برپا نہ دیکھا
بجُز اک نگاہِ مسیحا نفس کے محبت کے ماروں نے کیا کیا نہ دیکھا
بہت سیر کی باغ جنت کی ہم نے مگر کچھ مزا زندگی کا نہ دیکھا
کسی دل میں درد محبت نہ پایا، کسی دل میں داغ تمنا نہ دیکھا 
بہت مردِ میداں بھی دنیا میں دیکھے شجاعت پہ نازاں بھی دنیا میں دیکھے
مگر چوٹ سہہ جاۓ تیرِ نظر کی یہ دل پہ کلیجا کسی کا نہ دیکھا

Tuesday, 4 October 2016

بحث میں دونوں کو لطف آتا رہا

بحث میں دونوں کو لطف آتا رہا
مجھ کو دل میں دل کو سمجھاتا رہا
ان کی محفل میں دل پر اضطراب
ایک شعلہ تھا جو تھراتا رہا
موت کے دھوکے میں ہم کیوں آ گئے
زندگی کا بھی مزا جاتا رہا

بندۂ مہر بہ لب ہوں میں ثنا خواں تیرا

بندۂ مہر بہ لب ہوں میں ثنا خواں تیرا
دل میں رہتا ہے مقفل غم پنہاں تیرا
زندگی کچھ بھی نہیں سوز محبت کے بغیر
آگ اس دل کو لگے جو نہیں خواہاں تیرا
قلزم عشق کے طوفان سے بچنا معلوم
اے دلِ زار! اب اللہ نگہباں تیرا

Sunday, 8 November 2015

زہر غم پی کر جو لہراتا نہیں

زہرِ غم پی کر جو لہراتا نہیں
پینے والوں میں گِنا جاتا نہیں
بال و پر تو ہیں مگر یہ حال ہے
آشیانے تک اڑا جاتا نہیں
اور تو سب کچھ ہے ان کی بزم میں
اک خدا اس میں نظر آتا نہیں

حسن جس جس کو ملا اس کو جفا بھی آئی


حسن جس جس کو ملا اس کو جفا بھی آئی
ناز کے ساتھ تغافل کی ادا بھی آئی
چار جانب تھا اندھیرا ہی اندھیرا گھر میں
آپ آئے تو آنکھوں میں ضیا بھی آئی
تیغِ قاتل نے جو مقتل میں کیا قتل مجھے
جان کے ساتھ مِرے لب پہ دعا بھی آئی

صبر سے اب تو گزارا ہو گا


صبر سے اب تو گزارا ہو گا
چارہ سازوں سے نہ چارا ہو گا
تُو بھی دشمن ہے تو اے دردِ نہاں
کون ہمدرد ہمارا ہو گا؟
دل ہے کیوں جنسِ وفا کا گاہک
جانتا ہے کہ خسارا ہو گا

جب دعائیں بھی کچھ اثر نہ کریں


جب دعائیں بھی کچھ اثر نہ کریں
کیا کریں، صبر ہم اگر نہ کریں
داستاں ختم ہو ہی جائے گی
آپ قصہ مختصر نہ کریں
چھوڑتا ہی نہیں ہمیں صیاد
ورنہ پرواہِ بال و پر نہ کریں

دل بھی کیا جور آشنا نکلا


دل بھی کیا جور آشنا نکلا
سو بلاؤں کی اک بلا نکلا
جس کی الفت میں ہم ہوئے برباد
وہی بے گانۂ وفا نکلا
غم کی تلخی تو پھر بھی تلخی تھی
عیش کا پھل بھی بے مزا نکلا

بلا سے کوئی ہاتھ ملتا رہے


بلا سے کوئی ہاتھ ملتا رہے
تِرا حسن سانچے میں ڈھلتا رہے
ہر اک دل میں چمکے محبت کا داغ
یہ سِکہ زمانے میں چلتا رہے
ہو ہمدرد کیا جس کی ہر بات میں
شکایت کا پہلو نکلتا رہے