صبر سے اب تو گزارا ہو گا
چارہ سازوں سے نہ چارا ہو گا
تُو بھی دشمن ہے تو اے دردِ نہاں
کون ہمدرد ہمارا ہو گا؟
دل ہے کیوں جنسِ وفا کا گاہک
میکدے میں بھی ہے ناصح موجود
اب یہاں بھی نہ گزارا ہو گا
غم کو انعام سمجھنے والو
زہر کب تک یہ گورا ہو گا
کل جسے ڈوبتے دیکھا تم نے
میری قسمت کا ستارا ہو گا
زندگی نعمتِ عظمیٰ ہی سہی
موت پر کس کا اجارا ہو گا
عشق میں موت تو آتی ہی نہ تھی
تم نے بے موت ہی مارا ہو گا
کوئ آفت نہ ٹلے گی اے جوشؔ
جب تک ان کا نہ اشارا ہو گا
جوش ملسیانی
No comments:
Post a Comment