Sunday, 8 November 2015

صبر سے اب تو گزارا ہو گا


صبر سے اب تو گزارا ہو گا
چارہ سازوں سے نہ چارا ہو گا
تُو بھی دشمن ہے تو اے دردِ نہاں
کون ہمدرد ہمارا ہو گا؟
دل ہے کیوں جنسِ وفا کا گاہک
جانتا ہے کہ خسارا ہو گا
میکدے میں بھی ہے ناصح موجود
اب یہاں بھی نہ گزارا ہو گا
غم کو انعام سمجھنے والو
زہر کب تک یہ گورا ہو گا
کل جسے ڈوبتے دیکھا تم نے
میری قسمت کا ستارا ہو گا
زندگی نعمتِ عظمیٰ ہی سہی
موت پر کس کا اجارا ہو گا
عشق میں موت تو آتی ہی نہ تھی
تم نے بے موت ہی مارا ہو گا
کوئ آفت نہ ٹلے گی اے جوشؔ
جب تک ان کا نہ اشارا ہو گا

جوش ملسیانی

No comments:

Post a Comment