یہ کرب یہ نیرنگئ انفاس نہ رہ جائے
ایسا تو کبھی ہو کہ تِری آس نہ رہ جائے
کچھ اور لہو تھوک مِرے ڈُوبتے سُورج
احساس کے ہونٹوں پہ کہیں پیاس نہ رہ جائے
اس ضد میں حقائق کے جہنم میں جلے ہیں
کچھ پاس مِرے پاس مِرے پاس نہ رہ جائے
یہ کرب یہ نیرنگئ انفاس نہ رہ جائے
ایسا تو کبھی ہو کہ تِری آس نہ رہ جائے
کچھ اور لہو تھوک مِرے ڈُوبتے سُورج
احساس کے ہونٹوں پہ کہیں پیاس نہ رہ جائے
اس ضد میں حقائق کے جہنم میں جلے ہیں
کچھ پاس مِرے پاس مِرے پاس نہ رہ جائے
حالات کے خداؤ! وہ ملعون ہم ہی ہیں
حمدون ہم کو کہتے ہیں حمدون ہم ہی ہیں
گھبرا کے تشنگی سے جو اپنے کو پی گیا
خود گیر و خود شکار وہ مجنون ہم ہی ہیں
جس سے ملی ہے بانجھ دماغوں کو زندگی
اے ناقدِ حیات! وہ مضمون ہم ہی ہیں
گلی گلی ہے اندھیرا کوئی صدا تو ملے
گُھٹی گُھٹی سی فضا ہے کہیں ہوا تو ملے
میں اپنے چہرے کی ویرانیاں کُھرچ ڈالوں
بس ایک لمحے کو جینے کا ذائقہ تو ملے
اسی لیے تو اُڑائی ہیں دھجیاں اپنی
جنوں کو شعلہ مزاجی کا کچھ مزہ تو ملے
میں ہوں اور مشغلہ جامہ دری ہے یا ہُو
کیف در کیف عجب بے خبری ہے یا ہو
ہر طرف سحرِ نفی خوفِ ابد طاری ہے
جان لیوا یہ بلیغ النظری ہے یا ہو
ہست در ہست حجابات کے صحرا ٹھہرے
کیا یہ تشریح مقام بشری ہے یا ہو
اک مجسم درد ہوں اک آہ ہوں
پھر بھی زیب و زینت افواہ ہوں
میں نے دنیا کی پسند اوڑھی نہیں
کچھ بھی ہوں پھر بھی تو حق آگاہ ہوں
صد لحم و استخواں ہوتے ہوئے
ہر نفس اب بھی تِرے ہمراہ ہوں