Showing posts with label حمدون عثمانی. Show all posts
Showing posts with label حمدون عثمانی. Show all posts

Wednesday, 17 September 2025

یہ کرب یہ نیرنگئ انفاس نہ رہ جائے

 یہ کرب یہ نیرنگئ انفاس نہ رہ جائے

ایسا تو کبھی ہو کہ تِری آس نہ رہ جائے

کچھ اور لہو تھوک مِرے ڈُوبتے سُورج

احساس کے ہونٹوں پہ کہیں پیاس نہ رہ جائے

اس ضد میں حقائق کے جہنم میں جلے ہیں

کچھ پاس مِرے پاس مِرے پاس نہ رہ جائے

Wednesday, 19 February 2025

حالات کے خداؤ وہ ملعون ہم ہی ہیں

 حالات کے خداؤ! وہ ملعون ہم ہی ہیں

حمدون ہم کو کہتے ہیں حمدون ہم ہی ہیں

گھبرا کے تشنگی سے جو اپنے کو پی گیا

خود گیر و خود شکار وہ مجنون ہم ہی ہیں

جس سے ملی ہے بانجھ دماغوں کو زندگی

اے ناقدِ حیات! وہ مضمون ہم ہی ہیں

Friday, 31 January 2025

گلی گلی ہے اندھیرا کوئی صدا تو ملے

 گلی گلی ہے اندھیرا کوئی صدا تو ملے

گُھٹی گُھٹی سی فضا ہے کہیں ہوا تو ملے

میں اپنے چہرے کی ویرانیاں کُھرچ ڈالوں

بس ایک لمحے کو جینے کا ذائقہ تو ملے

اسی لیے تو اُڑائی ہیں دھجیاں اپنی

جنوں کو شعلہ مزاجی کا کچھ مزہ تو ملے

Monday, 19 April 2021

میں ہوں اور مشغلہ جامہ دری ہے یا ہو

میں ہوں اور مشغلہ جامہ دری ہے یا ہُو

کیف در کیف عجب بے خبری ہے یا ہو

ہر طرف سحرِ نفی خوفِ ابد طاری ہے

جان لیوا یہ بلیغ النظری ہے یا ہو

ہست در ہست حجابات کے صحرا ٹھہرے

کیا یہ تشریح مقام بشری ہے یا ہو

Saturday, 10 April 2021

اک مجسم درد ہوں اک آہ ہوں

اک مجسم درد ہوں اک آہ ہوں

پھر بھی زیب و زینت افواہ ہوں

میں نے دنیا کی پسند اوڑھی نہیں

کچھ بھی ہوں پھر بھی تو حق آگاہ ہوں

صد لحم و استخواں ہوتے ہوئے

ہر نفس اب بھی تِرے ہمراہ ہوں