میں ہوں اور مشغلہ جامہ دری ہے یا ہُو
کیف در کیف عجب بے خبری ہے یا ہو
ہر طرف سحرِ نفی خوفِ ابد طاری ہے
جان لیوا یہ بلیغ النظری ہے یا ہو
ہست در ہست حجابات کے صحرا ٹھہرے
کیا یہ تشریح مقام بشری ہے یا ہو
پوری قوت سے نہ کیوں دوڑوں ابد کی جانب
زیست اک عالم افراتفری ہے یا ہو
اک سنورتا ہوا لمحہ تو کہیں مل جاتا
دیکھ چہرے پہ مِرے در بہ دری ہے یا ہو
این و آں جب میرے پرکار کی گردش کے اسیر
پھر یہ کیوں کس لیے دریوزہ گری ہے یا ہو
میرے افکار ہیں ابلاغ گزیدہ تو کیا
ایک نئے طور کی یہ دیدہ وری ہے یا ہو
حمدون عثمانی
No comments:
Post a Comment