اس گھر میں مِرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو
ٹوٹی ہوئی کشتی میں سفر کر کے تو دیکھو
دھرتی سے بچھڑنے کی سزا کہتے ہیں کس کو
طوفاں میں جزیروں پہ نظر کر کے تو دیکھو
خوابوں کو صلیبوں پہ سجا پاؤ گے ہر سُو
آنکھوں کے بیاباں سے گزر کر کے تو دیکھو
اس گھر میں مِرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو
ٹوٹی ہوئی کشتی میں سفر کر کے تو دیکھو
دھرتی سے بچھڑنے کی سزا کہتے ہیں کس کو
طوفاں میں جزیروں پہ نظر کر کے تو دیکھو
خوابوں کو صلیبوں پہ سجا پاؤ گے ہر سُو
آنکھوں کے بیاباں سے گزر کر کے تو دیکھو
منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں
سب قیامت کے ہی آثار نظر آتے ہیں
ان مسیحاؤں سے اللہ بچائے ہم کو
شکل و صورت سے جو بیمار نظر آتے ہیں
جانے کیا ٹوٹ گیا ہے کہ ہر اک رات مجھے
خواب میں گنبد و مینار نظر آتے ہیں
یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں
دل کے ویرانے کو کرنے لگیں جل تھل آنکھیں
میری آنکھوں کا کوئی ابر سے رشتہ ہے ضرور
ٹوٹ کے برسی گھٹا جب ہوئیں بوجھل آنکھیں
خواب کو خواب سمجھتی ہی نہیں جانے کیوں
ڈھونڈھتی رہتی ہیں اک شخص کو پاگل آنکھیں
مجھ کو تِرے سلوک سے کوئی گِلہ نہ تھا
زہر اب پی رہا تھا مگر لب کشا نہ تھا
کانٹوں سے جسم چھلنی ہے میرا اسی لیے
پھولوں سے پیار کرنے کا کچھ تجربہ نہ تھا
لاکھوں تماش بین ہیں، اور ہم صلیب پر
اک وقت وہ تھا کوئی ہمیں دیکھتا نہ تھا
لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے
یہ شاخ مجھ کو مِری غم شناس لگتی ہے
کسی کتاب کے اندر دبی ہوئی تتلی
اسی کتاب کا اک اقتباس لگتی ہے
وہ موت ہی ہے جو دیتی ہے سو طرح کے لباس
یہ زندگی ہے کہ جو بے لباس لگتی ہے
اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو
در اس کا چھٹ گیا تو دریچے بھی چھوڑ دو
کیسا ہے وہ کہاں ہے، بنا کس کا ہمسفر؟
بہتر ہے کچھ سوال ادھورے بھی چھوڑ دو
اک بے وفا کا نام لکھو گے کہاں تلک؟
اوراق اپنے ماضی کے سادے بھی چھوڑ دو