Showing posts with label شکیل شمسی. Show all posts
Showing posts with label شکیل شمسی. Show all posts

Wednesday, 11 January 2023

اس گھر میں مرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو

 اس گھر میں مِرے ساتھ بسر کر کے تو دیکھو

ٹوٹی ہوئی کشتی میں سفر کر کے تو دیکھو

دھرتی سے بچھڑنے کی سزا کہتے ہیں کس کو

طوفاں میں جزیروں پہ نظر کر کے تو دیکھو

خوابوں کو صلیبوں پہ سجا پاؤ گے ہر سُو

آنکھوں کے بیاباں سے گزر کر کے تو دیکھو

Friday, 29 October 2021

منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں

 منبروں پر بھی گنہ گار نظر آتے ہیں

سب قیامت کے ہی آثار نظر آتے ہیں

ان مسیحاؤں سے اللہ بچائے ہم کو

شکل و صورت سے جو بیمار نظر آتے ہیں

جانے کیا ٹوٹ گیا ہے کہ ہر اک رات مجھے

خواب میں گنبد و مینار نظر آتے ہیں

Thursday, 21 October 2021

یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں

 یاد تم آئے تو پھر بن گئیں بادل آنکھیں

دل کے ویرانے کو کرنے لگیں جل تھل آنکھیں

میری آنکھوں کا کوئی ابر سے رشتہ ہے ضرور

ٹوٹ کے برسی گھٹا جب ہوئیں بوجھل آنکھیں

خواب کو خواب سمجھتی ہی نہیں جانے کیوں

ڈھونڈھتی رہتی ہیں اک شخص کو پاگل آنکھیں

Tuesday, 19 October 2021

مجھ کو ترے سلوک سے کوئی گلہ نہ تھا

 مجھ کو تِرے سلوک سے کوئی گِلہ نہ تھا

زہر اب پی رہا تھا مگر لب کشا نہ تھا

کانٹوں سے جسم چھلنی ہے میرا اسی لیے

پھولوں سے پیار کرنے کا کچھ تجربہ نہ تھا

لاکھوں تماش بین ہیں، اور ہم صلیب پر

اک وقت وہ تھا کوئی ہمیں دیکھتا نہ تھا

Tuesday, 10 August 2021

لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے

 لدی ہے پھولوں سے پھر بھی اداس لگتی ہے

یہ شاخ مجھ کو مِری غم شناس لگتی ہے

کسی کتاب کے اندر دبی ہوئی تتلی

اسی کتاب کا اک اقتباس لگتی ہے

وہ موت ہی ہے جو دیتی ہے سو طرح کے لباس

یہ زندگی ہے کہ جو بے لباس لگتی ہے

Wednesday, 28 April 2021

اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو

 اس سے گلے شکایتیں شکوے بھی چھوڑ دو

در اس کا چھٹ گیا تو دریچے بھی چھوڑ دو

کیسا ہے وہ کہاں ہے، بنا کس کا ہمسفر؟

بہتر ہے کچھ سوال ادھورے بھی چھوڑ دو

اک بے وفا کا نام لکھو گے کہاں تلک؟

اوراق اپنے ماضی کے سادے بھی چھوڑ دو