Tuesday, 20 October 2026

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی

 اسیر لمحۂ موجُود ہو گئے ہم بھی

خُود اپنی ذات کے سائے میں کھو گئے ہم بھی

لگاؤ سنگ صدا شیشۂ سکوت پہ آج

زمانے والو! پُکارو کہ سو گئے ہم بھی

لگے تو شاخ پہ اک برگِ زرد کی مانند

گِرے تو گردِ حقارت میں کھو گئے ہم بھی

نہ دیکھ پائے حقیقت کے ہولناک نقوش

ہزار رنگ نقابوں میں کھو گئے ہم بھی

ہمارا ذوقِ سخن گوئی صرف ذوق نہ تھا

کہ ایک عہد کو اس میں سمو گئے ہم بھی

غموں کی دھار وہی ہے الم کی کاٹ وہی

نہ جانے کیسے عیاں کُند ہو گئے ہم بھی


رشیدہ عیاں

No comments:

Post a Comment