ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
ہم تمہیں کہیں بھی مل سکتے ہیں
ان گھروں میں جنہیں ہم
دفتروں سے لوٹنے کے لیے کرائے پر لیتے ہیں
یا ان دفتروں میں جہاں ہم
گھروں کا کرایہ دینے کے لیے نوکری کرتے ہیں
ان گاڑیوں میں جو ہمیں صبح گھر سے دفتر لے جانے کے لیے
سورج نے تمہیں دیکھنے کے لیے
سمندر کے اس پار
تمہاری کھڑکی کے سامنے والا فلیٹ خرید لیا
سائیکل کا ہینڈل تمہارے ہاتھ کی حدت جذب کرنے کو
ساری رات اوس میں بھیگے گا
فرج میں رکھی یخ بستہ بوتل سوچتی ہے
ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
محبت بوسے سے پہلے ایجاد ہوئی تھی
مجھے اس کے ہاتھ چھڑاتے ہی اندازہ ہو گیا تھا
کہ ہمارے بیچ پہلے جیسا کچھ بھی نہیں
اس نے میرا پسندیدہ سوئٹر پہن رکھا تھا
جو اس کے گھٹنوں تک آتا تھا
اور اس میں وہ اپنی عمر سے بڑی لگتی تھی
محبت
محبت کیفیت ہے
وصال اور ہجر سے لفظوں کے دامن میں
یہ پوری آ نہیں سکتی
میں کہتا ہوں؛
وصال اور ہونٹ بھی
اک دوسرے سے مس نہیں ہوتے
سجدوں میں ہمارا قتل ہو جانا روایت ہے
قسم رب کی
اور اس سب کی جسے اس پالنے والے نے پالا ہے
ہمیں جنگ سے کس دن مفر تھا
مگر یہ کہ
عباؤں میں تمہارا اپنی تلواریں چھپانا
میں تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتا
تم نے کتنی بار محبت کی
یہ بات میں تم سے نہیں پوچھ سکا
ویسے بھی یہ سوال دوستی کے کسی مرحلے کے لیے
مناسب نہیں ہو سکتا ہے
تم اتوار کا دن کیسے گزارتی ہو؟
محبت روایت نہیں ہے
محبت وہ پامال رستہ نہیں ہے
کے آتے ہوئے موڑ کی ہر خبر
کِرم خوردہ کتابوں کے بوسیدہ صفحوں کی دھندلی لکیروں میں
چھپ چھپ کے عریاں ہوئی ہو
محبت کی تصویر کس نے بنائی
لہجے کی تیزی کو بیتے وقت کی گندهک چاٹ گئی
تِرچھے لفظوں کے کونوں کو سمے کی دیمک چاٹ گئی
کورا کاغذ، خالی پیکٹ اور پِرچ میں اوندھا کپ
شام آدھی سگرٹ نے پی لی، باقی چینک چاٹ گئی
باہر کی دیوار گرائی گزرے وقت کے دھکے نے
ویرانی کی جیبھ تھی جو لوہے کا پھاٹک چاٹ گئی
میں تمہارے علاوہ کسی سے بے وفائی نہیں کر سکتا تھا
میں نے تمہارے علاوہ
کسی سے محبت نہیں کی
میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تھا
سوائے اس راز کے
کہ کئی بار محبت کم پڑ جاتی ہے
بوسہ
جھیل کنارا
حبس میں ڈوبی بوجھل بھاری شام
تین طرف جنگل کی خوشبو
چوتھی کھونٹ طلسم
سات درا اک شہر کے جس میں صدیوں بوڑھے بھید
میں جانتا ہوں
تم اس قدر دیوتا تو ہو ہی کہ دل کے حالات جانتے ہو
سوال لب پہ نہ آنے پائے
دعا کو حرفِ قبولیت بھی عطا کرو تم
تم اس قدر بھی خدا نہیں ہو
میں اپنے دامن کا کل اثاثہ