لہجے کی تیزی کو بیتے وقت کی گندهک چاٹ گئی
تِرچھے لفظوں کے کونوں کو سمے کی دیمک چاٹ گئی
کورا کاغذ، خالی پیکٹ اور پِرچ میں اوندھا کپ
شام آدھی سگرٹ نے پی لی، باقی چینک چاٹ گئی
باہر کی دیوار گرائی گزرے وقت کے دھکے نے
ویرانی کی جیبھ تھی جو لوہے کا پھاٹک چاٹ گئی
شعر کسے کہتے ہیں صاحب کیسا شعر اور کون سا شعر
رات تھکن نے کھا لی، دن دفتر کی بک بک چاٹ گئی
ہر شے نے دَم سادھ لیا تھا سننے کو پیروں کی چاپ
اور پھر شام کے سنّاٹے کو تیری دستک چاٹ گئی
پہلے ہوا کا نوحہ سُن کر چاند کا چہرہ زرد پڑا
پھر اس دِیپ کو دِھیرے دِھیرے رات کی کالک چاٹ گئی
سلمان حیدر
No comments:
Post a Comment