گرمیوں کی دوپہریں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں
پیپل کی چھاؤں تلے بیٹھنے سے
کمرے کے ننگے فرش پر کمر سیدھی کرنے سے
اور
ماں کی گود میں سر رکھ لینے سے
گرمیوں کی شامیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں
کچے صحن میں پانی چھڑکنے سے
دو چار بادلوں کے گھر آنے سے
اور
ایک آواز کے میسر آ جانے سے
سیماب ظفر
No comments:
Post a Comment