Sunday, 20 June 2021

وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا

 وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا

تمام رات یہ دل سخت امتحان میں تھا

سکوں سراب زمیں میں جھلس گیا تھا بدن

نہ جانے کون دھنک رنگ سائبان میں تھا

ذرا سا دم نہ لیا تھا کہ مُند گئیں آنکھیں

میں اس سفر سے نکل کر عجب تکان میں تھا

وہ جاتے جاتے اچانک مُڑا تھا میری طرف

مجھے یقیں ہے کہ وہ پھر کسی گُمان میں تھا

اسے بھُلایا تو اپنا خیال بھی نہ رہا

کہ میرا سارا اثاثہ اسی مکان میں تھا


احمد محفوظ

No comments:

Post a Comment