ہم دونوں
ہم دونوں کی اتنی پکی یاری تھی
ہم دونوں کو دیکھ کے دنیا جلتی تھی
ہم دونوں اک باغ میں کھلنے والے پھول
ہم دونوں کی جوڑی اچھی لگتی تھی
ہم دونوں تو فیض کی نظموں جیسے تھے
ہم دونوں اک اچھے شعر کے مصرعے تھے
ہم دونوں
ہم دونوں کی اتنی پکی یاری تھی
ہم دونوں کو دیکھ کے دنیا جلتی تھی
ہم دونوں اک باغ میں کھلنے والے پھول
ہم دونوں کی جوڑی اچھی لگتی تھی
ہم دونوں تو فیض کی نظموں جیسے تھے
ہم دونوں اک اچھے شعر کے مصرعے تھے
یہ مستقل تو نہیں عارضی محبت ہے
ہمارے ساتھ تمہیں ظاہری محبت ہے
ہر ایک بات پہ جو مسکرا رہے ہیں آپ
تو کیا میں سمجھوں کہ یہ آپ کی محبت ہے
کسی کے واسطے یہ کھیل ہے، تماشہ ہے
ہمارے واسطے تو شاعری محبت ہے
جو سوچ کے چلا تھا میں ویسا ہوا نہیں
منزل تو سامنے ہے، مگر راستا نہیں
مجھ پہ وہ ایک لمحہ قیامت ہے دوستا
جیسے وہ دیکھتی ہے کوئی دیکھتا نہیں
اس کی گلی ہے تیز ہواؤں کا راستا
اس کی گلی میں ایک بھی روشن دِیا نہیں
سب ہی مِرے خلاف یہاں بولنے لگے
کس راہ چل دئیے کہ نشاں بولنے لگے
پہلے پہل تو چُپ کی زباں سیکھنی پڑھی
پھر یوں ہوا کہ زخمِ نہاں بولنے لگے
میرے گواہ اس کی طرف دیکھنے کے بعد
سارے کے سارے اس کی زباں بولنے لگے
میں کہہ رہی ہوں کہ لوٹ آؤ
جی میں ہوں قاصد
پیام یہ ہے وہ کہہ رہی تھی
یہ اس سے کہنا
میں کہہ رہی ہوں کہ لوٹ آؤ
کہ اب تو ساون کی پہلی بارش کی پہلی بوندیں تمہیں پکاریں
وہ ایک چہرہ
وہ چہرہ وہ دل نشیں چہرہ
فلک کے چاند ستاروں سے بھی حسیں چہرہ
میں جس کے بارے ہر اک زاویے سے سوچتا ہوں
مِرے خیال اسے چھُو کے لوٹ آتے ہیں
وہ جس کے ساتھ بتائے تھے میں نے چند لمحے
میں رفتہ رفتہ اداسیوں سے نکل رہا ہوں
تو کیا یہ کم ہے تمہاری خاطر بدل رہا ہوں
حسین لڑکی تمہارے آنے سے خوش ہوا ہوں
وگرنہ پچھلے کئی مہینوں سے جل رہا ہوں
یہ گرد مجھ کو بتا رہی ہے کہ؛ لوٹ جاؤ
اور ایک میں ہوں کہ دشت کی سمت چل رہا ہوں
عجیب طرز سے گزری ہے کل کی رات مِری
کہ دل سناتا بھی تھا سنتا بھی تھا بات مری
میں خوش گمان رہا ہار کا سوچا بھی نہ تھا
مگر جو آئی تھی حصے میں وہ تھی مات مری
میں ہار آیا ہوں جس کو انا کی جنگ میں دوست
یقین مان وہ لڑکی تھی کائنات مری
جو شخص پیڑ کاٹنے والے کا ساتھ دے
سمجھو کہ اس کو سائے کا مطلب نہیں پتا
تم نے ہماری چائے کی دعوت کو رد کیا
تم کو ہماری چائے کا مطلب نہیں پتا
یہ بھی نہیں کہ آپ کو میں جانتا نہیں
یہ بھی نہیں، پرائے کا مطلب نہیں پتا
اے تجسس میں ڈالنے والے
ہم نہیں رک کے دیکھنے والے
چاہے جتنا بھی عشق سچا ہو
چھوڑ جاتے ہیں چھوڑنے والے
ایک مسند ہے بادشاہت کی
اس پہ بیٹھے ہیں مانگنے والے