Showing posts with label نثار سلہری. Show all posts
Showing posts with label نثار سلہری. Show all posts

Thursday, 21 September 2023

ہم دونوں کی اتنی پکی یاری تھی

 ہم دونوں


ہم دونوں کی اتنی پکی یاری تھی

ہم دونوں کو دیکھ کے دنیا جلتی تھی

ہم دونوں اک باغ میں کھلنے والے پھول

ہم دونوں کی جوڑی اچھی لگتی تھی

ہم دونوں تو فیض کی نظموں جیسے تھے

ہم دونوں اک اچھے شعر کے مصرعے تھے

Tuesday, 17 August 2021

یہ مستقل تو نہیں عارضی محبت ہے

 یہ مستقل تو نہیں عارضی محبت ہے

ہمارے ساتھ تمہیں ظاہری محبت ہے

ہر ایک بات پہ جو مسکرا رہے ہیں آپ

تو کیا میں سمجھوں کہ یہ آپ کی محبت ہے

کسی کے واسطے یہ کھیل ہے، تماشہ ہے

ہمارے واسطے تو شاعری محبت ہے

Thursday, 8 July 2021

جو سوچ کے چلا تھا میں ویسا ہوا نہیں

 جو سوچ کے چلا تھا میں ویسا ہوا نہیں

منزل تو سامنے ہے، مگر راستا نہیں

مجھ پہ وہ ایک لمحہ قیامت ہے دوستا

جیسے وہ دیکھتی ہے کوئی دیکھتا نہیں

اس کی گلی ہے تیز ہواؤں کا راستا

اس کی گلی میں ایک بھی روشن دِیا نہیں

Thursday, 1 July 2021

سب ہی مرے خلاف یہاں بولنے لگے

 سب ہی مِرے خلاف یہاں بولنے لگے

کس راہ چل دئیے کہ نشاں بولنے لگے

پہلے پہل تو چُپ کی زباں سیکھنی پڑھی

پھر یوں ہوا کہ زخمِ نہاں بولنے لگے

میرے گواہ اس کی طرف دیکھنے کے بعد

سارے کے سارے اس کی زباں بولنے لگے

جی میں ہوں قاصد پیام یہ ہے

 میں کہہ رہی ہوں کہ لوٹ آؤ


جی میں ہوں قاصد

پیام یہ ہے وہ کہہ رہی تھی

یہ اس سے کہنا

میں کہہ رہی ہوں کہ لوٹ آؤ

کہ اب تو ساون کی پہلی بارش کی پہلی بوندیں تمہیں پکاریں

Tuesday, 27 April 2021

وہ چہرہ وہ دلنشیں چہرہ

 وہ ایک چہرہ

وہ چہرہ وہ دل نشیں چہرہ

فلک کے چاند ستاروں سے بھی حسیں چہرہ

میں جس کے بارے ہر اک زاویے سے سوچتا ہوں

مِرے خیال اسے چھُو کے لوٹ آتے ہیں

وہ جس کے ساتھ بتائے تھے میں نے چند لمحے

Thursday, 8 April 2021

میں رفتہ رفتہ اداسیوں سے نکل رہا ہوں

 میں رفتہ رفتہ اداسیوں سے نکل رہا ہوں 

تو کیا یہ کم ہے تمہاری خاطر بدل رہا ہوں 

حسین لڑکی تمہارے آنے سے خوش ہوا ہوں

وگرنہ پچھلے کئی مہینوں سے جل رہا ہوں

یہ گرد مجھ کو بتا رہی ہے کہ؛ لوٹ جاؤ

اور ایک میں ہوں کہ دشت کی سمت چل رہا ہوں

Saturday, 9 January 2021

عجیب طرز سے گزری ہے کل کی رات مری

 عجیب طرز سے گزری ہے کل کی رات مِری

کہ دل سناتا بھی تھا سنتا بھی تھا بات مری

میں خوش گمان رہا ہار کا سوچا بھی نہ تھا

مگر جو آئی تھی حصے میں وہ تھی مات مری

میں ہار آیا ہوں جس کو انا کی جنگ میں دوست

یقین مان وہ لڑکی تھی کائنات مری

Thursday, 7 January 2021

سمجھو کہ اس کو سائے کا مطلب نہیں پتا

جو شخص پیڑ کاٹنے والے کا ساتھ دے

سمجھو کہ اس کو سائے کا مطلب نہیں پتا

 تم نے ہماری چائے کی دعوت کو رد کیا

تم کو ہماری چائے کا مطلب نہیں پتا

یہ بھی نہیں کہ آپ کو میں جانتا نہیں

یہ بھی نہیں، پرائے کا مطلب نہیں پتا

Saturday, 2 January 2021

اے تجسس میں ڈالنے والے

 اے تجسس میں ڈالنے والے

ہم نہیں رک کے دیکھنے والے

چاہے جتنا بھی عشق سچا ہو

چھوڑ جاتے ہیں چھوڑنے والے

ایک مسند ہے بادشاہت کی

اس پہ بیٹھے ہیں مانگنے والے