Thursday, 8 July 2021

جو سوچ کے چلا تھا میں ویسا ہوا نہیں

 جو سوچ کے چلا تھا میں ویسا ہوا نہیں

منزل تو سامنے ہے، مگر راستا نہیں

مجھ پہ وہ ایک لمحہ قیامت ہے دوستا

جیسے وہ دیکھتی ہے کوئی دیکھتا نہیں

اس کی گلی ہے تیز ہواؤں کا راستا

اس کی گلی میں ایک بھی روشن دِیا نہیں

رُخسار ٹھیک ٹھاک ہیں آنکھیں بھی ٹھیک ٹھاک

لگتی تو ٹھیک ٹھاک ہو، پر اپسرا نہیں

میں نے تمہارے ہجر میں تنہا گزار دی

تم کو بھی کوئی دوسرا اب تک ملا نہیں

وہ چاہتی تھی میں اسے چاہوں کچھ اس طرح

وہ چاہتی تھی قیس بنوں، میں بنا نہیں

ہم لوگ ایسے لوگ جو راہوں میں رہ گئے

ہم کو تمہارے شہر کا نقشہ ملا نہیں


نثار سلہری

No comments:

Post a Comment