بڑا اندھیر ہے ظلمات کے علاوہ بھی
حصارِ تیرگی ہے رات کے علاوہ بھی
کشاں کشاں لیے چلتی ہے کوئی مجبوری
ستم ظریفئ حالات کے علاوہ بھی
تو جیت جاتا کوئی اور چال چل کر بھی
میں ہار جاتا کسی مات کے علاوہ بھی
بڑا اندھیر ہے ظلمات کے علاوہ بھی
حصارِ تیرگی ہے رات کے علاوہ بھی
کشاں کشاں لیے چلتی ہے کوئی مجبوری
ستم ظریفئ حالات کے علاوہ بھی
تو جیت جاتا کوئی اور چال چل کر بھی
میں ہار جاتا کسی مات کے علاوہ بھی
سرِ بازار نہ دستار اچھالی جائے
جو سنبھل سکتی ہے اب بات سنبھالی جائے
در و دیوار کا کیا دوش تھا، کیا چھت کی خطا
ان پہ بنیاد کی تہمت نہیں ڈالی جائے
بادباں ڈھونڈ کے سمتوں کا تعین کیا جائے
ناخداؤں سے اب امید اٹھا لی جائے
یوں تو کیا کیا حسِیں نہیں ملتا
کوئی تیرا قرِیں نہیں ملتا
جس کو دل کا سکون کہتے ہیں
آدمی کو کہیں نہیں ملتا
کوئی درمانِ ذوقِ نظارہ
تا دمِ آخریں نہیں ملتا
شہر بیمار ہے طبیبو
یہ لوگ جو شہر کی رگوں میں
لہو کی مانند دوڑتے ہیں
یہ لوگ جو اس کی زندگی ہیں
یہ لوگ خود زندگی کی صورت بھی
دیکھنے کو ترس رہے ہیں
سکوں اب گاؤں میں بھی گھٹ گیا ہے
سڑک بننے میں برگد کٹ گیا ہے
اسے فُرصت کہاں جو خود کو ڈُھونڈے
وہ گھر والوں میں ایسے بَٹ گیا ہے
اب ہر منزل پہ خود کو دیکھتا ہوں
حجاب آخر نظر سے ہٹ گیا ہے