Showing posts with label بشارت گیلانی. Show all posts
Showing posts with label بشارت گیلانی. Show all posts

Saturday, 21 August 2021

بڑا اندھیر ہے ظلمات کے علاوہ بھی

 بڑا اندھیر ہے ظلمات کے علاوہ بھی

حصارِ تیرگی ہے رات کے علاوہ بھی

کشاں کشاں لیے چلتی ہے کوئی مجبوری

ستم ظریفئ حالات کے علاوہ بھی

تو جیت جاتا کوئی اور چال چل کر بھی

میں ہار جاتا کسی مات کے علاوہ بھی

Saturday, 14 August 2021

سر بازار نہ دستار اچھالی جائے

 سرِ بازار نہ دستار اچھالی جائے

جو سنبھل سکتی ہے اب بات سنبھالی جائے

در و دیوار کا کیا دوش تھا، کیا چھت کی خطا

ان پہ بنیاد کی تہمت نہیں ڈالی جائے

بادباں ڈھونڈ کے سمتوں کا تعین کیا جائے

ناخداؤں سے اب امید اٹھا لی جائے

یوں تو کیا کیا حسیں نہیں ملتا

 یوں تو کیا کیا حسِیں نہیں ملتا

کوئی تیرا قرِیں نہیں ملتا

جس کو دل کا سکون کہتے ہیں

آدمی کو کہیں نہیں ملتا

کوئی درمانِ ذوقِ نظارہ

تا دمِ آخریں نہیں ملتا

Friday, 13 August 2021

یہ شہر بیمار ہے طبیبو یہ کیسا آزار ہے طبیبو

 شہر بیمار ہے طبیبو


یہ لوگ جو شہر کی رگوں میں

لہو کی مانند دوڑتے ہیں

یہ لوگ جو اس کی زندگی ہیں

یہ لوگ خود زندگی کی صورت بھی 

دیکھنے کو ترس رہے ہیں

سکوں اب گاؤں میں بھی گھٹ گیا ہے

 سکوں اب گاؤں میں بھی گھٹ گیا ہے

سڑک بننے میں برگد کٹ گیا ہے

اسے فُرصت کہاں جو خود کو ڈُھونڈے

وہ گھر والوں میں ایسے بَٹ گیا ہے

اب ہر منزل پہ خود کو دیکھتا ہوں

حجاب آخر نظر سے ہٹ گیا ہے