سکوں اب گاؤں میں بھی گھٹ گیا ہے
سڑک بننے میں برگد کٹ گیا ہے
اسے فُرصت کہاں جو خود کو ڈُھونڈے
وہ گھر والوں میں ایسے بَٹ گیا ہے
اب ہر منزل پہ خود کو دیکھتا ہوں
حجاب آخر نظر سے ہٹ گیا ہے
یہ کس کا نام لے کر چل پڑے تھے
زمانہ راستوں میں کٹ گیا ہے
میں اپنے سامنے کیا آ رُکا ہوں
کوئی بادل سا جیسے چھٹ گیا ہے
سفر کی اور اب کیا ہو نشانی
یہ سر جو کہکشاں سے اٹ گیا ہے
بشارت گیلانی
No comments:
Post a Comment