آباد اب نہ ہو گا مے خانہ زندگی کا
لبریز ہو چکا ہے پیمانہ زندگی کا
آ خواب میں کسی دن اے رشکِ ماہِ تاباں
کر دے ذرا منور کاشانہ زندگی کا
وہ تازہ داستاں ہوں مرنے کے بعد ان کو
آئے گا یاد میرا افسانہ زندگی کا
آباد اب نہ ہو گا مے خانہ زندگی کا
لبریز ہو چکا ہے پیمانہ زندگی کا
آ خواب میں کسی دن اے رشکِ ماہِ تاباں
کر دے ذرا منور کاشانہ زندگی کا
وہ تازہ داستاں ہوں مرنے کے بعد ان کو
آئے گا یاد میرا افسانہ زندگی کا
جلوے دکھائے یار نے اپنی حریمِ ناز میں
سجدے چمک چمک اٹھے میرے سرِ نیاز میں
جلوۂ دید میں تِری شعلۂ طُور تھا نہاں
آگ سی اور لگ گئی میرے دلِ گداز میں
شوق نے کھیچ لی مِرے یار کی جب نقابِ رخ
حسن کی روشنی ہوئی جلوہ گہہ مجاز میں
وہ پردے سے نکل کر سامنے جب بے حجاب آیا
جہانِ عشق میں یک بارگی اک انقلاب آیا
زمیں کے ذرہ ذرہ سے نمایاں ہو گئے جلوے
سرِ گلزار وہ رشک قمر جب بے حجاب آیا
مُکرر زندگانی کا مزا ہو جائے گا حاصل
دمِ آخر بھی قاصد لے کے گر خط کا جواب آیا
تمنائے دل بے تاب حاصل ہوتی جاتی ہے
خلش جو دل میں میرے رگِ دل ہوتی جاتی ہے
یہ آنکھیں اور بے تاب نظارہ اے معاذاللہ
بساطِ آئینہ جلوہ گہِ دل ہوتی جاتی ہے
حجابِ رخ اٹھایا کس ادا سے حسن کے مالک
کہ جلووں سے تِرے مدہوش محفل ہوتی جاتی ہے
کیوں خفا ہم سے ہو خطا کیا ہے
یہ تو فرمائیے ہوا کیا ہے
حسن کیا حسن کی ادا کیا ہے
اس کے جلووں کا دیکھنا کیا ہے
ایک عالم ہے صرف مے نوشی
نگہ مست! ماجرا کیا ہے؟
رنگیں بنا کے دامنِ زخمِ جگر کو میں
گلزار کر رہا ہوں فضائے نظر کو میں
گاتا ہوں سازِ دل پہ ترانے سحر کو میں
بیدار کر رہا ہوں کسی فتنہ گر کو میں
ملزم نظر ہے یا سرِ شوریدہ کا قصور
کعبہ سمجھ رہا ہوں تِرے سنگِ در کو میں
جب فصلِ بہاراں آتی ہے شاداب گلستاں ہوتے ہیں
تکمیلِ جنوں بھی ہوتی ہے اور چاک گریباں ہوتے ہیں
پُر کیف فضائیں چلتی ہیں، مخمور گھٹائیں چھاتی ہیں
جب صحنِ چمن میں جلوہ نما وہ جانِ بہاراں ہوتے ہیں
ہوتا ہے سکونِ قلب و جگر، ہر زخم میں لذت آتی ہے
او ناوکِ افگن تیر تِرے تسکین رگِ جاں ہوتے ہیں