Showing posts with label انور سہارنپوری. Show all posts
Showing posts with label انور سہارنپوری. Show all posts

Saturday, 4 November 2023

آباد اب نہ ہو گا مے خانہ زندگی کا

 آباد اب نہ ہو گا مے خانہ زندگی کا

لبریز ہو چکا ہے پیمانہ زندگی کا

آ خواب میں کسی دن اے رشکِ ماہِ تاباں

کر دے ذرا منور کاشانہ زندگی کا

وہ تازہ داستاں ہوں مرنے کے بعد ان کو

آئے گا یاد میرا افسانہ زندگی کا

Monday, 3 July 2023

جلوے دکھائے یار نے اپنی حریم ناز میں

 جلوے دکھائے یار نے اپنی حریمِ ناز میں

سجدے چمک چمک اٹھے میرے سرِ نیاز میں

جلوۂ دید میں تِری شعلۂ طُور تھا نہاں

آگ سی اور لگ گئی میرے دلِ گداز میں

شوق نے کھیچ لی مِرے یار کی جب نقابِ رخ

حسن کی روشنی ہوئی جلوہ گہہ مجاز میں

Thursday, 1 June 2023

وہ پردے سے نکل کر سامنے جب بے حجاب آیا

 وہ پردے سے نکل کر سامنے جب بے حجاب آیا

جہانِ عشق میں یک بارگی اک انقلاب آیا

زمیں کے ذرہ ذرہ سے نمایاں ہو گئے جلوے

سرِ گلزار وہ رشک قمر جب بے حجاب آیا

مُکرر زندگانی کا مزا ہو جائے گا حاصل

دمِ آخر بھی قاصد لے کے گر خط کا جواب آیا

Sunday, 28 May 2023

تمنائے دل بے تاب حاصل ہوتی جاتی ہے

 تمنائے دل بے تاب حاصل ہوتی جاتی ہے

خلش جو دل میں میرے رگِ دل ہوتی جاتی ہے

یہ آنکھیں اور بے تاب نظارہ اے معاذاللہ

بساطِ آئینہ جلوہ گہِ دل ہوتی جاتی ہے

حجابِ رخ اٹھایا کس ادا سے حسن کے مالک

کہ جلووں سے تِرے مدہوش محفل ہوتی جاتی ہے

Thursday, 11 May 2023

کیوں خفا ہم سے ہو خطا کیا ہے

 کیوں خفا ہم سے ہو خطا کیا ہے

یہ تو فرمائیے ہوا کیا ہے

حسن کیا حسن کی ادا کیا ہے

اس کے جلووں کا دیکھنا کیا ہے

ایک عالم ہے صرف مے نوشی

نگہ مست! ماجرا کیا ہے؟

Wednesday, 10 May 2023

رنگیں بنا کے دامن زخم جگر کو میں

 رنگیں بنا کے دامنِ زخمِ جگر کو میں

گلزار کر رہا ہوں فضائے نظر کو میں

گاتا ہوں سازِ دل پہ ترانے سحر کو میں

بیدار کر رہا ہوں کسی فتنہ گر کو میں

ملزم نظر ہے یا سرِ شوریدہ کا قصور

کعبہ سمجھ رہا ہوں تِرے سنگِ در کو میں

Thursday, 22 September 2022

جب فصل بہاراں آتی ہے شاداب گلستاں ہوتے ہیں

 جب فصلِ بہاراں آتی ہے شاداب گلستاں ہوتے ہیں

تکمیلِ جنوں بھی ہوتی ہے اور چاک گریباں ہوتے ہیں

پُر کیف فضائیں چلتی ہیں، مخمور گھٹائیں چھاتی ہیں

جب صحنِ چمن میں جلوہ نما وہ جانِ بہاراں ہوتے ہیں

ہوتا ہے سکونِ قلب و جگر، ہر زخم میں لذت آتی ہے

او ناوکِ افگن تیر تِرے تسکین رگِ جاں ہوتے ہیں