Wednesday, 10 May 2023

رنگیں بنا کے دامن زخم جگر کو میں

 رنگیں بنا کے دامنِ زخمِ جگر کو میں

گلزار کر رہا ہوں فضائے نظر کو میں

گاتا ہوں سازِ دل پہ ترانے سحر کو میں

بیدار کر رہا ہوں کسی فتنہ گر کو میں

ملزم نظر ہے یا سرِ شوریدہ کا قصور

کعبہ سمجھ رہا ہوں تِرے سنگِ در کو میں

چن کر گل نیاز قریب بساط دل

باغِ اِرم بناتا ہوں داغِ جگر کو میں

وحشی بنا ہوا ہے مِری مانتا نہیں

اللہ کیا کروں دلِ شوریدہ سر کو میں

اے حسنِ دلنواز مِری ہمتیں تو دیکھ

دل دے کے مول لیتا ہوں دردِ جگر کو میں

سنگِ در حبیب کو کعبہ بنا نہ لوں

جلوہ سمجھ کے حسنِ فریبِ نظر کو میں

زاہد نمازِ عشق کی تجدید کے لیے

پھر اس کے نقشِ پا پہ جھکاتا ہوں سر کو میں

میری طرح مجھے وہ نظر آئیں بے قرار

کرتا ہوں اپنی آہ میں پیدا اثر کو میں

شاید نیاز مند کو حاصل نیاز ہو

حسرت سے تک رہا ہوں تِری رہگزر کو میں

کرتا ہوں ضبطِ غم کہ نہ کھل جائے راز عشق

دل میں چھپا کے رکھتا ہوں تیرِ نظر کو میں

انور گئیں نہ دل کی مِرے بدگمانیاں

رہزن سمجھ رہا ہوں ہر اک راہبر کو میں


انور سہارنپوری

No comments:

Post a Comment