سر کٹوا لو عزت سے سردار میاں
جھکنے سے گر جاتی ہے دستار میاں
مرکز میں بھی بیٹھ کے رہتا ہے حد میں
دیکھا ہو گا تم نے بھی پرکار میاں
دھرتی چیر کے دیکھو، ہم ہی نکلیں گے
پھر بھی ہے الزام کہ ہیں غدار میاں
دیس میں گر مل جائے عزت کی روٹی
پھر کیوں جائیں لوگ سمندر پار میاں
ظلِ الہیٰ آپ کا ہے انصاف کہاں؟
وہ تو رہیں آزاد، پھنسیں دو چار میاں
ملک میں اتنی آزادی ہے زاہد بس
ووٹ ہی دینے تک کے ہیں حقدار میاں
تجمل حسین زاہد
No comments:
Post a Comment