نہ پوچھ مجھ سے تو کیسے کہاں سے لڑنا ہے
زمیں پہ رہ کے مجھے آسماں سے لڑنا ہے
ہماری ضد ہے کہ ہم کو فلاں سے لڑنا ہے
سمجھ میں آتا نہیں ہے کہاں سے لڑنا ہے
یہ شہریار ہی میرے چمن کا دشمن ہے
اسی لیے تو غم بوستاں سے لڑنا ہے
نہ پوچھ مجھ سے تو کیسے کہاں سے لڑنا ہے
زمیں پہ رہ کے مجھے آسماں سے لڑنا ہے
ہماری ضد ہے کہ ہم کو فلاں سے لڑنا ہے
سمجھ میں آتا نہیں ہے کہاں سے لڑنا ہے
یہ شہریار ہی میرے چمن کا دشمن ہے
اسی لیے تو غم بوستاں سے لڑنا ہے
حال بدلا ہی نہیں اب تک دل دلگیر کا
کچھ سبب بتلائیے گا آپ اس تاخیر کا
ہم فنا کی حد سے آگے بڑھ گئے تھے عشق میں
اس سے آگے کیا لکھیں ہم قصہ اب تدبیر کا
میں بہا آیا ہوں خط گنگا میں اپنے پیار کے
جو کلیجہ سے لگی ہے کیا کروں تصویر کا
چاندنی رات میں تاروں کی کہانی لکھی
جلوۂ جاناں کی ہر ایک نشانی لکھی
ہو کے حاصل نہ ہوئی ایسی سیانی لکھی
تم کو اک حاجتِ ناکام زبانی لکھی
میں نے ہر وقت نیا درد سہیجا دل میں
اس نے افسوس مِری بات پرانی لکھی
قُدرت کی عدالت میں کانٹوں کی شکایت ہے
ہر باغ میں پھولوں کی فطرت میں رعونت ہے
سمجھا دو فرشتوں کو کس کی مجھے حسرت ہے
ہوں جس کا تمنائی،۔ نام اس کا محبت ہے
اس درجہ محبت ہے اک دُوجے سے دونوں کو
میں اس کی ضرورت ہوں وہ میری ضرورت ہے