Showing posts with label نور پیکر. Show all posts
Showing posts with label نور پیکر. Show all posts

Thursday, 27 August 2026

نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

 نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا

مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں

مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا

بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری

مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا

Thursday, 12 March 2026

کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا

 کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا

بحر بپھرا تو کہاں ریت کا ساحل ٹھہرا

لے کے جاتے ہو کہاں اس کی گلی میں یارو

میرا ہر لفظ تو زنجیر کے قابل ٹھہرا

وصف کیا لکھے قلم اس کے حسیں چہرے کا

جب نہ خورشید کوئی اس کے مماثل ٹھہرا

Monday, 6 January 2025

آئینہ ساز ہاتھوں کا آئینہ صاف کر

 آئینہ ساز ہاتھوں کا آئینہ صاف کر

میں ہوں پسِ غبار مِرا انکشاف کر

کیا کچھ نہیں اُداس گھروں میں تِرے لیے

جنگل کو جانے والے! کبھی اعتکاف کر

جس کا ہُوا ہے قتل، وہ اک آفتاب تھا

سرزد ہوئی ہے تجھ سے خطا اعتراف کر

Wednesday, 27 November 2024

دل کی بستی میں شب و روز دھواں رہتا ہے

 ہر گھڑی شہر خموشاں کا سماں رہتا ہے

دل کی بستی میں شب و روز دھواں رہتا ہے

میری بدلی ہوئی حالت کا بھی مفہوم سمجھ

ان دنوں مجھ سے خفا دشمنِ جاں رہتا ہے

آئینہ توڑ کے کیوں جوڑ رہے ہیں صاحب

زخم بھر جاتا ہے پر اس کا نشاں رہتا ہے

Tuesday, 18 January 2022

صعوبتوں کا سفر ہے سفر تمام تو ہو

صعوبتوں کا سفر ہے، سفر تمام تو ہو

ٹھہر بھی سکتا ہوں لیکن کوئی مقام تو ہو

جُھلس رہا ہے بدن تو جُھلستے رہنے دے

طلسم دُھوپ کا ٹُوٹے گا پہلے شام تو ہو

★حیات ذائقہ اپنا بدل بھی سکتی ہے ☆

تِرے لبوں کی حلاوت کا کوئی جام تو ہو