نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا
بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا
مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں
مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا
بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری
مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا
نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا
بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا
مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں
مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا
بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری
مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا
کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا
بحر بپھرا تو کہاں ریت کا ساحل ٹھہرا
لے کے جاتے ہو کہاں اس کی گلی میں یارو
میرا ہر لفظ تو زنجیر کے قابل ٹھہرا
وصف کیا لکھے قلم اس کے حسیں چہرے کا
جب نہ خورشید کوئی اس کے مماثل ٹھہرا
آئینہ ساز ہاتھوں کا آئینہ صاف کر
میں ہوں پسِ غبار مِرا انکشاف کر
کیا کچھ نہیں اُداس گھروں میں تِرے لیے
جنگل کو جانے والے! کبھی اعتکاف کر
جس کا ہُوا ہے قتل، وہ اک آفتاب تھا
سرزد ہوئی ہے تجھ سے خطا اعتراف کر
ہر گھڑی شہر خموشاں کا سماں رہتا ہے
دل کی بستی میں شب و روز دھواں رہتا ہے
میری بدلی ہوئی حالت کا بھی مفہوم سمجھ
ان دنوں مجھ سے خفا دشمنِ جاں رہتا ہے
آئینہ توڑ کے کیوں جوڑ رہے ہیں صاحب
زخم بھر جاتا ہے پر اس کا نشاں رہتا ہے
صعوبتوں کا سفر ہے، سفر تمام تو ہو
ٹھہر بھی سکتا ہوں لیکن کوئی مقام تو ہو
جُھلس رہا ہے بدن تو جُھلستے رہنے دے
طلسم دُھوپ کا ٹُوٹے گا پہلے شام تو ہو
★حیات ذائقہ اپنا بدل بھی سکتی ہے ☆
تِرے لبوں کی حلاوت کا کوئی جام تو ہو