اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے
اُڑ گئے ٹُکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے
راز اُلفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا
خامشی سیکھی ہے ہم نے بُلبل تصویر سے
چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیرِ زُلف کو
دم اُلجھتا ہے تِری اُلجھی ہوئی تقریر سے
اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے
اُڑ گئے ٹُکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے
راز اُلفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا
خامشی سیکھی ہے ہم نے بُلبل تصویر سے
چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیرِ زُلف کو
دم اُلجھتا ہے تِری اُلجھی ہوئی تقریر سے
دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی
تم چلے اُٹھ کے مِری جان قیامت آئی
آپ کے ظُلم نے دی میری وفا کو شہرت
کہ مِرے خُون سے بھی بُوئے محبت آئی
سچ ہے مرنے پہ نہیں کوئی کسی کا دل سوز
شمع بھی بُجھ گئی جس دم سرِ تربت آئی
جاں اپنی وقفِ زحمتِ ہِجراں کیے ہوئے
عاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کیے ہوئے
سب مُنتشر ہیں میرے جنازے کو دیکھ کر
تم ساتھ ہو جو حال پریشاں کیے ہوئے
اب تو نفس کی آمد و شُد بھی ہوئی ہے بند
ایسی جگہ ہے سینے میں پیکاں کیے ہوئے
اس ستمگار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا
کیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جانا
نزع میں بڑھ کے کھٹک دل سے یہی کہتی ہے
آج تو درد کا ممکن ہے دوا ہو جانا
لے کے پیغام قضا بادِ بہاری آئی
نا مبارک ہوا زخموں کا ہرا ہو جانا