Showing posts with label ناصری لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label ناصری لکھنوی. Show all posts

Monday, 28 September 2026

اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

 اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

اُڑ گئے ٹُکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے

راز اُلفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا

خامشی سیکھی ہے ہم نے بُلبل تصویر سے

چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیرِ زُلف کو

دم اُلجھتا ہے تِری اُلجھی ہوئی تقریر سے

Sunday, 27 September 2026

دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی

 دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی

تم چلے اُٹھ کے مِری جان قیامت آئی

آپ کے ظُلم نے دی میری وفا کو شہرت

کہ مِرے خُون سے بھی بُوئے محبت آئی

سچ ہے مرنے پہ نہیں کوئی کسی کا دل سوز

شمع بھی بُجھ گئی جس دم سرِ تربت آئی

Sunday, 23 August 2020

جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئے

جاں اپنی وقفِ زحمتِ ہِجراں کیے ہوئے

عاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کیے ہوئے

سب مُنتشر ہیں میرے جنازے کو دیکھ کر

تم ساتھ ہو جو حال پریشاں کیے ہوئے

اب تو نفس کی آمد و شُد بھی ہوئی ہے بند

ایسی جگہ ہے سینے میں پیکاں کیے ہوئے

Sunday, 18 February 2018

اس ستمگار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا

 اس ستمگار نے سیکھا ہے خفا ہو جانا

کیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جانا

نزع میں بڑھ کے کھٹک دل سے یہی کہتی ہے

آج تو درد کا ممکن ہے دوا ہو جانا

لے کے پیغام قضا بادِ بہاری آئی

نا مبارک ہوا زخموں کا ہرا ہو جانا