Thursday, 5 November 2026

تمہیں تو کچھ پتہ ہو گا تمہیں تو کچھ خبر ہو گی

 تمہیں تو کچھ پتہ ہو گا تمہیں تو کچھ خبر ہو گی

بتاؤ اے شبِ ہجراں! تمہاری کب سحر ہو گی

یقیناً شہ رگِ ہستی سے بھی نزدیک تر ہو گی

بھلا کیونکر وہ چشمِ ناز ہم سے بے خبر ہو گی

وہ کب آئیں گے کب پردہ رُخِ زیبا سے اُٹھے گا

یہ شب کیا اے غمِ دوراں یونہی تنہا بسر ہو گی

انہیں معلوم ہوتا حالِ دردِ دل تو آ جاتے

بہت ممکن ہے اپنی آہِ سوزاں بے اثر ہو گی

فرازِ خستہ جاں ان کا ہے ہم سے دِید کا وعدہ

یہ ان کی بات ہے مانو نہ مانو معتبر ہو گی


علی فراز رضوی

No comments:

Post a Comment