تمہیں تو کچھ پتہ ہو گا تمہیں تو کچھ خبر ہو گی
بتاؤ اے شبِ ہجراں! تمہاری کب سحر ہو گی
یقیناً شہ رگِ ہستی سے بھی نزدیک تر ہو گی
بھلا کیونکر وہ چشمِ ناز ہم سے بے خبر ہو گی
وہ کب آئیں گے کب پردہ رُخِ زیبا سے اُٹھے گا
یہ شب کیا اے غمِ دوراں یونہی تنہا بسر ہو گی
انہیں معلوم ہوتا حالِ دردِ دل تو آ جاتے
بہت ممکن ہے اپنی آہِ سوزاں بے اثر ہو گی
فرازِ خستہ جاں ان کا ہے ہم سے دِید کا وعدہ
یہ ان کی بات ہے مانو نہ مانو معتبر ہو گی
علی فراز رضوی
No comments:
Post a Comment