سر لے کے ہتھیلی پہ نکلنا ہی پڑے گا
پھن سانپ کے بچے کا کُچلنا ہی پڑے گا
نفرت کی فضاؤں کو نِگلنا ہی پڑے گا
سُورج کو اندھیروں سے ہی پڑے گا
ہاتھوں کی لکیروں میں ابھر آئے ہیں چھالے
اب درد کو آنکھوں سے اُبلنا ہی پڑے گا
یہ آگ بڑھے گی تو جھُلس جاؤ گے تم بھی
نفرت کو محبت میں بدلنا ہی پڑے گا
جب تک سرِ مغرور یہاں خم نہیں ہوتا
اے شمعِ وفا تجھ کو تو جلنا ہی پڑے گا
دل تھام کے پیتے رہے ہر روز مگر اب
غُصے کو سرِ عام اُگلنا ہی پڑے گا
دُنیائے کروفر میں عرفان خُوشی سے
مٹی کے کِھلونوں سے بہلنا ہی پڑے گا
عرفان شاہ نوری
محمد عرفان عبدالمناف پٹیل
No comments:
Post a Comment