Monday, 2 November 2026

صداقتوں کو کیا ہوا حیا کہاں چلی گئی

 صداقتوں کو کیا ہُوا،۔ حیا کہاں چلی گئی

جہانِ حُسن و عشق سے وفا کہاں چلی گئی

صلِیب و دار کی حِکایتیں غلط غلط لگیں

دِلوں کو چِیرتی ہُوئی صدا کہاں چلی گئی

قدم قدم بھٹک رہے ہیں قافلے نِگاہ کے

بُجھا کے شمعِ انجمن ہوا کہاں چلی گئی

بتاؤ کچھ بتاؤ؟ مجھ کو میری نااُمیدیو

اثر کہاں چلا گیا، دُعا کہاں چلی گئی

مُسافروں کی ٹھوکریں پُکارتی ہیں آج بھی

چراغِ رہگزر تو ہے، ضیا کہاں چلی گئی

مِلے اگر وہ راہ میں تو صرف اتنا پُوچھ لُوں

سِتم شعار! اب تِری جفا کہاں چلی گئی؟

کلی کلی سے آج بھی نسیم پُوچھتا ہوں میں

وہ بانکپن کہاں گیا،۔ ادا کہاں چلی گئی؟


نسیم رفعت گوالیاری

عبدالقیوم

No comments:

Post a Comment