اُگی تھی صحن میں دیوار ہر چڑھی ناں تھی
وہ عشق پیچاں کی اک بیل تھی، بڑھی ناں تھی
میاں! یہ لوگ ہی تاریکیوں کے عادی تھے
چراغ بیچنے والوں کی کچھ کمی ناں تھی
پھر اس کے بعد ہُوا یوں کہ ایک دن اُس نے
وہ بات کہہ دی جو پہلے کبھی کہی ناں تھی
اُگی تھی صحن میں دیوار ہر چڑھی ناں تھی
وہ عشق پیچاں کی اک بیل تھی، بڑھی ناں تھی
میاں! یہ لوگ ہی تاریکیوں کے عادی تھے
چراغ بیچنے والوں کی کچھ کمی ناں تھی
پھر اس کے بعد ہُوا یوں کہ ایک دن اُس نے
وہ بات کہہ دی جو پہلے کبھی کہی ناں تھی
تیرے آنے کا نشہ تیرے نہ آنے سے ہوا
گھر مکمل مِرا دیوار گِرانے سے ہوا
خون کے چھینٹے اڑے وقت کے پھیلاؤ میں
میرا ٹکراؤ کچھ اس طرح زمانے سے ہوا
ورنہ تو عشق میں آوارہ کئی اور بھی تھے
قیس کا نام فقط دشت بسانے سے ہوا
جب قضا مجھ سے یہ کہتی ہے کہ ہاں میں ہوں
میں یہی سوچتا رہتا ہوں، کہاں میں ہوں؟
میں کہاں ہوں کہ تِری سانس بھی چھُو سکتا ہوں
تُو وہاں ہے یہ بتا مجھ کو، جہاں میں ہوں
چاک بھی ہے یہیں موجود گِل و لا بھی ہے
فکر کس بات کا اے کوزہ گراں! میں ہوں
سُوکھا ہوا دریا ہے نہ مانجھی ہے نہ پتوار
جانا ہے بہت دُور مجھے تنہا مِرے یار
اک روز جسے توڑ کے نکلا تھا میں خود سے
ہے میرے تعاقب میں ابھی تک وہی دیوار
کیا روکے گی یہ دنیا، مِرے عشق کا رستہ
کیا کاٹے گی سر کو مِرے یہ کاٹھ کی تلوار
ساری دنیا سے ماورأ ہو جاؤں
میں اگر جسم سے رہا ہو جاؤں
میرے اپنے کئی مسائل ہیں
کیا پڑی ہے کہ میں خدا ہو جاؤں
زندگی! اتنی بھی سزا مت دے
میں تِرے سامنے کھڑا ہو جاؤں