Showing posts with label یونس متین. Show all posts
Showing posts with label یونس متین. Show all posts

Tuesday, 21 July 2026

وہ عشق پیچاں کی اک بیل تھی بڑھی ناں تھی

 اُگی تھی صحن میں دیوار ہر چڑھی ناں تھی

وہ عشق پیچاں کی اک بیل تھی، بڑھی ناں تھی

میاں! یہ لوگ ہی تاریکیوں کے عادی تھے

چراغ بیچنے والوں کی کچھ کمی ناں تھی

پھر اس کے بعد ہُوا یوں کہ ایک دن اُس نے

وہ بات کہہ دی جو پہلے کبھی کہی ناں تھی

Saturday, 26 February 2022

تیرے آنے کا نشہ تیرے نہ آنے سے ہوا

 تیرے آنے کا نشہ تیرے نہ آنے سے ہوا

گھر مکمل مِرا دیوار گِرانے سے ہوا

خون کے چھینٹے اڑے وقت کے پھیلاؤ میں

میرا ٹکراؤ کچھ اس طرح زمانے سے ہوا

ورنہ تو عشق میں آوارہ کئی اور بھی تھے

قیس کا نام فقط دشت بسانے سے ہوا

Thursday, 30 December 2021

جب قضا مجھ سے یہ کہتی ہے کہ ہاں میں ہوں

 جب قضا مجھ سے یہ کہتی ہے کہ ہاں میں ہوں

میں یہی سوچتا رہتا ہوں، کہاں میں ہوں؟

میں کہاں ہوں کہ تِری سانس بھی چھُو سکتا ہوں

تُو وہاں ہے یہ بتا مجھ کو، جہاں میں ہوں

چاک بھی ہے یہیں موجود گِل و لا بھی ہے

فکر کس بات کا اے کوزہ گراں! میں ہوں

Tuesday, 28 September 2021

سوکھا ہوا دریا ہے نہ مانجھی ہے نہ پتوار

 سُوکھا ہوا دریا ہے نہ مانجھی ہے نہ پتوار

جانا ہے بہت دُور مجھے تنہا مِرے یار

اک روز جسے توڑ کے نکلا تھا میں خود سے

ہے میرے تعاقب میں ابھی تک وہی دیوار

کیا روکے گی یہ دنیا، مِرے عشق کا رستہ

کیا کاٹے گی سر کو مِرے یہ کاٹھ کی تلوار

Thursday, 14 January 2021

ساری دنیا سے ماورا ہو جاؤں

 ساری دنیا سے ماورأ ہو جاؤں

میں اگر جسم سے رہا ہو جاؤں

میرے اپنے کئی مسائل ہیں

کیا پڑی ہے کہ میں خدا ہو جاؤں

زندگی! اتنی بھی سزا مت دے

میں تِرے سامنے کھڑا ہو جاؤں