ساری دنیا سے ماورأ ہو جاؤں
میں اگر جسم سے رہا ہو جاؤں
میرے اپنے کئی مسائل ہیں
کیا پڑی ہے کہ میں خدا ہو جاؤں
زندگی! اتنی بھی سزا مت دے
میں تِرے سامنے کھڑا ہو جاؤں
اک ذرا کُن کا لفظ کہہ کر دیکھ
کہہ دیا ہے تو بول کیا ہو جاؤں؟
عین ممکن ہے رقص کرتے ہوئے
میں تِرے سامنے ہوا ہو جاؤں
یونس متین
No comments:
Post a Comment