ہر ایک سمت ہے چھایا سکوت کا منظر
دھڑک رہا ہے مگر زلزلہ مِرے اندر
زمیں کا ظرف فلک کا وقار رکھتے ہیں
زمیں نژاد سہی آسمان پر ہے نظر
ڈرا نہ پائیں گے ہم کو یہ سر پھرے طوفاں
کہ موج عزم تو جا کر رکے گی ساحل پر
ہر ایک سمت ہے چھایا سکوت کا منظر
دھڑک رہا ہے مگر زلزلہ مِرے اندر
زمیں کا ظرف فلک کا وقار رکھتے ہیں
زمیں نژاد سہی آسمان پر ہے نظر
ڈرا نہ پائیں گے ہم کو یہ سر پھرے طوفاں
کہ موج عزم تو جا کر رکے گی ساحل پر
راہِ ہستی میں عجب ہے مرحلہ
جتنا بڑھتی ہوں، بڑھے ہے فاصلہ
جانبِ منزل ہوں پھر بھی گامزن
زخم بنتا جائے ہے ہر آبلہ
آرزوؤں کے دِیے جب جب جلے
آندھیوں کا چل پڑا اک سلسلہ
لہو کا ہنر آزماتے رہیں گے
چراغ آندھیوں میں جلاتے رہیں گے
زمانہ ستم ہم پہ ڈھاتا رہے گا
ہر اک غم پہ ہم مسکراتے رہیں گے
سماں ہو خوشی کا یا غم کا ہو موسم
ہم اپنا فسانہ سناتے رہیں گے
سامانِ روشنی شبِ ہجراں نہ ہو سکے
پلکوں پہ یہ چراغ فروزاں نہ ہو سکے
اب کے بھی سوگوار رہا موسمِ بہار
شاخوں پہ پھول اب کے بھی خنداں نہ ہو سکے
کرتے رہے جو چاند ستاروں سے گفتگو
وہ آشنائے عظمتِ انساں نہ ہو سکے
اے دل یہ تِری شورشِ جذبات کہاں تک
اے دیدۂ نم اشکوں کی برسات کہاں تک
برہم نہیں ہم، آپ کی بے گانہ روی سے
اپنوں سے مگر ترکِ ملاقات کہاں تک
آخر کوئی مہ تاب تو ہو اس کا مقدر
بھٹکے گی ستاروں کی یہ بارات کہاں تک