Showing posts with label نجمہ انصار. Show all posts
Showing posts with label نجمہ انصار. Show all posts

Tuesday, 4 January 2022

ہر ایک سمت ہے چھایا سکوت کا منظر

 ہر ایک سمت ہے چھایا سکوت کا منظر 

دھڑک رہا ہے مگر زلزلہ مِرے اندر 

زمیں کا ظرف فلک کا وقار رکھتے ہیں 

زمیں نژاد سہی آسمان پر ہے نظر 

ڈرا نہ پائیں گے ہم کو یہ سر پھرے طوفاں 

کہ موج عزم تو جا کر رکے گی ساحل پر 

Friday, 24 December 2021

راہ ہستی میں عجب ہے مرحلہ

 راہِ ہستی میں عجب ہے مرحلہ

جتنا بڑھتی ہوں، بڑھے ہے فاصلہ

جانبِ منزل ہوں پھر بھی گامزن

زخم بنتا جائے ہے ہر آبلہ

آرزوؤں کے دِیے جب جب جلے

آندھیوں کا چل پڑا اک سلسلہ

Monday, 13 December 2021

لہو کا ہنر آزماتے رہیں گے

 لہو کا ہنر آزماتے رہیں گے

چراغ آندھیوں میں جلاتے رہیں گے 

زمانہ ستم ہم پہ ڈھاتا رہے گا 

ہر اک غم پہ ہم مسکراتے رہیں گے 

سماں ہو خوشی کا یا غم کا ہو موسم 

ہم اپنا فسانہ سناتے رہیں گے 

Tuesday, 30 March 2021

سامان روشنی شب ہجراں نہ ہو سکے

 سامانِ روشنی شبِ ہجراں نہ ہو سکے

پلکوں پہ یہ چراغ فروزاں نہ ہو سکے

اب کے بھی سوگوار رہا موسمِ بہار

شاخوں پہ پھول اب کے بھی خنداں نہ ہو سکے

کرتے رہے جو چاند ستاروں سے گفتگو

وہ آشنائے عظمتِ انساں نہ ہو سکے

Friday, 26 March 2021

اے دل یہ تری شورش جذبات کہاں تک

 اے دل یہ تِری شورشِ جذبات کہاں تک

اے دیدۂ نم اشکوں کی برسات کہاں تک

برہم نہیں ہم، آپ کی بے گانہ روی سے

اپنوں سے مگر ترکِ ملاقات کہاں تک

آخر کوئی مہ تاب تو ہو اس کا مقدر

بھٹکے گی ستاروں کی یہ بارات کہاں تک