Friday, 24 December 2021

راہ ہستی میں عجب ہے مرحلہ

 راہِ ہستی میں عجب ہے مرحلہ

جتنا بڑھتی ہوں، بڑھے ہے فاصلہ

جانبِ منزل ہوں پھر بھی گامزن

زخم بنتا جائے ہے ہر آبلہ

آرزوؤں کے دِیے جب جب جلے

آندھیوں کا چل پڑا اک سلسلہ

وقت کے ہمراہ کوئی کیا چلے

وقت کے سینے میں مضمر زلزلہ

آپ ہم کو ساتھ لیتے جائیے

ایک سے اچھا ہے دو کا قافلہ

خود بخود ہو جائیں گے حل مسئلے

دیکھیۓ مت ہارئیے گا حوصلہ

ہے فقط نجمہ! گِلہ تقدیر سے

اس زمانے سے نہیں کوئی گِلہ


نجمہ انصار

No comments:

Post a Comment