جب سے ہم بدنام بہت ہیں
ہم سے جہاں کو کام بہت ہیں
آئینے میں کیا کیا دیکھیں
اک چہرہ اور نام بہت ہیں
لا سورج کرنوں کی سولی
راتوں پر الزام بہت ہیں
جب سے ہم بدنام بہت ہیں
ہم سے جہاں کو کام بہت ہیں
آئینے میں کیا کیا دیکھیں
اک چہرہ اور نام بہت ہیں
لا سورج کرنوں کی سولی
راتوں پر الزام بہت ہیں
حائل ہیں اشک راہ میں کیسے نظر ملے
بارش اگر تھمے تو مسافر کو گھر ملے
آئے چراغ شام لگا لوں گلے تجھے
دونوں کو یہ امید نہیں ہے سحر ملے
دورِ جدید میں جو بڑھی فاصلوں کی بات
جی چاہتا نہیں کہ نظر سے نظر ملے
جس رات بھی چراغِ شبِ غم رہا ہوں میں
اس رات روشنی میں بہت کم رہا ہوں میں
غیروں سے دوستی کو بڑھایا ہے اپنا ہاتھ
خود کتنا اپنے آپ سے برہم رہا ہوں میں
خوشبو دل و دماغ میں اور وہ بھی اس قدر
پھولوں کا ہم نشیں تو بہت کم رہا ہوں میں
تصویرِ دوست فکرِ مجسم بنی رہی
میں اس سے بولتا رہا وہ سوچتی رہی
کل شب تصورات کی محفل سجی رہی
جب تک تمہارا ذکر رہا، چاندنی رہی
شاید سمجھ رہی تھی اسے بھی کوئی چراغ
جگنو کے پیچھے تیز ہوا دوڑتی رہی
عادت مِری دنیا سے چھپانے کی نہیں تھی
وہ بات بھی کہہ دی جو بتانے کی نہیں تھی
میں خوش ہوں بہت گرد کو آئینے پہ رکھ کر
دی وہ مجھے صورت جو دکھانے کی نہیں تھی
ہم کھا گئے دھوکا تِری آنکھوں کی نمی سے
وہ چوٹ دکھا دی جو دکھانے کی نہیں تھی