Showing posts with label صولت زیدی. Show all posts
Showing posts with label صولت زیدی. Show all posts

Thursday, 11 November 2021

جب سے ہم بدنام بہت ہیں

 جب سے ہم بدنام بہت ہیں

ہم سے جہاں کو کام بہت ہیں

آئینے میں کیا کیا دیکھیں

اک چہرہ اور نام بہت ہیں

لا سورج کرنوں کی سولی

راتوں پر الزام بہت ہیں

Friday, 5 November 2021

حائل ہیں اشک راہ میں کیسے نظر ملے

 حائل ہیں اشک راہ میں کیسے نظر ملے

بارش اگر تھمے تو مسافر کو گھر ملے

آئے چراغ شام لگا لوں گلے تجھے

دونوں کو یہ امید نہیں ہے سحر ملے

دورِ جدید میں جو بڑھی فاصلوں کی بات

جی چاہتا نہیں کہ نظر سے نظر ملے

Thursday, 4 November 2021

جس رات بھی چراغ شب غم رہا ہوں میں

 جس رات بھی چراغِ شبِ غم رہا ہوں میں

اس رات روشنی میں بہت کم رہا ہوں میں

غیروں سے دوستی کو بڑھایا ہے اپنا ہاتھ

خود کتنا اپنے آپ سے برہم رہا ہوں میں

خوشبو دل و دماغ میں اور وہ بھی اس قدر

پھولوں کا ہم نشیں تو بہت کم رہا ہوں میں

Wednesday, 3 November 2021

تصویر دوست فکر مجسم بنی رہی

 تصویرِ دوست فکرِ مجسم بنی رہی

میں اس سے بولتا رہا وہ سوچتی رہی

کل شب تصورات کی محفل سجی رہی

جب تک تمہارا ذکر رہا، چاندنی رہی

شاید سمجھ رہی تھی اسے بھی کوئی چراغ

جگنو کے پیچھے تیز ہوا دوڑتی رہی

Tuesday, 7 September 2021

عادت مری دنیا سے چھپانے کی نہیں تھی

 عادت مِری دنیا سے چھپانے کی نہیں تھی

وہ بات بھی کہہ دی جو بتانے کی نہیں تھی

میں خوش ہوں بہت گرد کو آئینے پہ رکھ کر

دی وہ مجھے صورت جو دکھانے کی نہیں تھی

ہم کھا گئے دھوکا تِری آنکھوں کی نمی سے

وہ چوٹ دکھا دی جو دکھانے کی نہیں تھی