اب تو آہٹ سے مِری نیند اڑی جاتی ہے
اتنی وحشت ہے کہ ہر سانس رکی جاتی ہے
دور بیٹھے ہوئے بچوں کا خیال آتا ہے
جاگتی آنکھوں ہی میں رات کٹی جاتی ہے
خوف و دہشت ہے خموشی کا ہے عالم ہر سو
دل کی دنیا تو مِری آج لٹی جاتی ہے
اب تو آہٹ سے مِری نیند اڑی جاتی ہے
اتنی وحشت ہے کہ ہر سانس رکی جاتی ہے
دور بیٹھے ہوئے بچوں کا خیال آتا ہے
جاگتی آنکھوں ہی میں رات کٹی جاتی ہے
خوف و دہشت ہے خموشی کا ہے عالم ہر سو
دل کی دنیا تو مِری آج لٹی جاتی ہے
کیوں چلے آتے ہیں دلدار منانے مجھ کو
پاؤں آتے نہیں پانی پہ جمانے مجھ کو
ہر اک نعمت سے نوازا ہے خدا نے مجھ کو
تھام رکھا ہے کسی دستِ دعا نے مجھ کو
میں سخن میں تو کوئی کارِ نمایاں کر لوں
میں طلبگار ہوں، دے اپنے خزانے مجھ کو
کڑی ہی دھوپ تھی سایہ نظر نہیں آیا
ہماری راہ میں کوئی شجر نہیں آیا
ہمیں تو فیض کسی گام پر کبھی نہ ملا
لگائے پیڑ تو اُن پر ثمر نہیں آیا
خدا سے اپنے لیے جس کو ہم نے مانگا تھا
اسی کو ہم سے وفا کا ہنر نہیں آیا
ایک بلائے آسمانی سب جہاں پہ چھا گئی
چین سے ہو کے شروع اب وہ یہاں تک آ گئی
اس بلائے ناگہانی کو ڈرانا ہے ہمیں
اپنی ہمت حوصلہ اب آزمانا ہے ہمیں
ویسے تو گھر میں ہمیں یوں بیٹھنا آتا نہیں
گھومنا لگتا ہے اچھا، گھر تو کچھ بھاتا نہیں
تُو نے میری کمی نہ پائی ہو
آنکھ تیری نہ جھلملائی ہو
میرے ہونٹوں پہ بھی ہنسی ٹھہرے
غم کی بھی تو کبھی وداعی ہو
سلسلے نہ رکیں محبت کے
یہ خوشی نہ کبھی پرائی ہو
اداسیوں کو کبھی دو رخصت خموشیوں سے کلام کر لو
وضو کرو ا پنے آنسووں سے وفا کو اپنا امام کر لو
ملیں کبھی راستے میں گر تم کو اجنبی یا کہ اپنے پیارے
مجھے تو ماں نے تھا یہ سکھایا ادب سے سب کو سلام کر لو
سدا گھمنڈی سے بچ کے رہنا ہو جس کی فطرت میں دل دکھانا
یہ ہو نہ تم اپنے دل کے ہاتھوں میں آ کے جینا حرام کر لو