Showing posts with label شگفتہ شفیق. Show all posts
Showing posts with label شگفتہ شفیق. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

اب تو آہٹ سے مری نیند اڑی جاتی ہے

 اب تو آہٹ سے مِری نیند اڑی جاتی ہے

اتنی وحشت ہے کہ ہر سانس رکی جاتی ہے

دور بیٹھے ہوئے بچوں کا خیال آتا ہے

جاگتی آنکھوں ہی میں رات کٹی جاتی ہے

خوف و دہشت ہے خموشی کا ہے عالم ہر سو

دل کی دنیا تو مِری آج لٹی جاتی ہے

Wednesday, 31 March 2021

کیوں چلے آتے ہیں دلدار منانے مجھ کو

 کیوں چلے آتے ہیں دلدار منانے مجھ کو

پاؤں آتے نہیں پانی پہ جمانے مجھ کو

ہر اک نعمت سے نوازا ہے خدا نے مجھ کو

تھام رکھا ہے کسی دستِ دعا نے مجھ کو

میں سخن میں تو کوئی کارِ نمایاں کر لوں

میں طلبگار ہوں، دے اپنے خزانے مجھ کو

Saturday, 20 March 2021

کڑی ہی دھوپ تھی سایہ نظر نہیں آیا

 کڑی ہی دھوپ تھی سایہ نظر نہیں آیا

ہماری راہ میں کوئی شجر نہیں آیا

ہمیں تو فیض کسی گام پر کبھی نہ ملا

لگائے پیڑ تو اُن پر ثمر نہیں آیا

خدا سے اپنے لیے جس کو ہم نے مانگا تھا

اسی کو ہم سے وفا کا ہنر نہیں آیا

Friday, 19 March 2021

ایک بلائے آسمانی سب جہاں پہ چھا گئی

 ایک بلائے آسمانی سب جہاں پہ چھا گئی

چین سے ہو کے شروع اب وہ یہاں تک آ گئی

اس بلائے ناگہانی کو ڈرانا ہے ہمیں

اپنی ہمت حوصلہ اب آزمانا ہے ہمیں

ویسے تو گھر میں ہمیں یوں بیٹھنا آتا نہیں

گھومنا لگتا ہے اچھا، گھر تو کچھ بھاتا نہیں

Thursday, 26 November 2020

تو نے میری کمی نہ پائی ہو

 تُو نے میری کمی نہ پائی ہو

آنکھ تیری نہ جھلملائی ہو

میرے ہونٹوں پہ بھی ہنسی ٹھہرے

غم کی بھی تو کبھی وداعی ہو

سلسلے نہ رکیں محبت کے

یہ خوشی نہ کبھی پرائی ہو

Thursday, 12 November 2020

اداسیوں کو کبھی دو رخصت خموشیوں سے کلام کر لو

 اداسیوں کو کبھی دو رخصت خموشیوں سے کلام کر لو

وضو کرو ا پنے آنسووں سے وفا کو اپنا امام کر لو

ملیں کبھی راستے میں گر تم کو اجنبی یا کہ اپنے پیارے

مجھے تو ماں نے تھا یہ سکھایا ادب سے سب کو سلام کر لو

سدا گھمنڈی سے بچ کے رہنا ہو جس کی فطرت میں دل دکھانا

یہ ہو نہ تم اپنے دل کے ہاتھوں میں آ کے جینا حرام کر لو