کڑی ہی دھوپ تھی سایہ نظر نہیں آیا
ہماری راہ میں کوئی شجر نہیں آیا
ہمیں تو فیض کسی گام پر کبھی نہ ملا
لگائے پیڑ تو اُن پر ثمر نہیں آیا
خدا سے اپنے لیے جس کو ہم نے مانگا تھا
اسی کو ہم سے وفا کا ہنر نہیں آیا
وہ ایک شخص کہ جس کو بھُلا سکے نہ کبھی
وہ میرے دل کا مکیں لوٹ کر نہیں آیا
اسی نے میرے یقیں کو دیا بڑا دھوکہ
جو خود کو کہتا رہا؛ ہم سفر نہیں آیا
ذرا سی بھول کی کیسی سزا ملی ہے مجھے
بہت تلاشا، مگر اپنا گھر نہیں آیا
زمانہ سارا شگفتہ کو پوچھنے آیا
بس ایک وہ ہی رہا بے خبر نہیں آیا
شگفتہ شفیق
No comments:
Post a Comment