کم بھی تھے اگر فن کے خریدار بہت تھے
بکنے پر اتر آتے تو بازار بہت تھے
پھر بھی نہ کھلی آنکھ تو کیا کیجیے ورنہ
احباب کے جھٹکے ہمیں دو چار بہت تھے
دن نکلا بہتّر کے سوا کوئی نہیں تھا
کل رات تو سر دینے کو تیار بہت تھے
کم بھی تھے اگر فن کے خریدار بہت تھے
بکنے پر اتر آتے تو بازار بہت تھے
پھر بھی نہ کھلی آنکھ تو کیا کیجیے ورنہ
احباب کے جھٹکے ہمیں دو چار بہت تھے
دن نکلا بہتّر کے سوا کوئی نہیں تھا
کل رات تو سر دینے کو تیار بہت تھے
کیا کرے گا دوسروں کو جان کر
پہلے اپنے آپ کی پہچان کر
یہ زمانہ لا ابالی کا نہیں
پھونک کر پی چھاچھ پانی چھان کر
کیوں الجھتے جا رہے ہو بار بار
دل میں آخر آئے ہو کیا ٹھان کر