Showing posts with label خضر ناگپوری. Show all posts
Showing posts with label خضر ناگپوری. Show all posts

Monday, 11 March 2024

کم بھی تھے اگر فن کے خریدار بہت تھے

کم بھی تھے اگر فن کے خریدار بہت تھے

بکنے پر اتر آتے تو بازار بہت تھے

پھر بھی نہ کھلی آنکھ تو کیا کیجیے ورنہ

احباب کے جھٹکے ہمیں دو چار بہت تھے

دن نکلا بہتّر کے سوا کوئی نہیں تھا

کل رات تو سر دینے کو تیار بہت تھے

Wednesday, 9 November 2016

بہ عنوان خلوص دل کہیں ایسا نہ کر لینا

بہ عنوانِ خلوصِ دل کہیں ایسا نہ کر لینا
تماشا بن کے اپنے آپ کو رسوا نہ کر لینا
تقاضا ابر باراں کا ہے پی لے جھوم کر واعظ
پھر اس کے بعد سو توبہ سر مۓ خانہ کر لینا
بہت نازک زمانہ ہے ضمیر اپنا سلامت رکھ
کہیں نا سمجھی میں ایمان کا سودا نہ کر لینا

مشکل ہے مری قوت رفتار سمجھنا

مشکل ہے مِری قوتِ رفتار سمجھنا
اس پار نظر آؤں تو اس پار سمجھنا
طوفاں سے خطرناک ہے ساحل کے مگر مچھ
جو بچ کے نکل جائے اسے پار سمجھنا
سر درد نہ بن جائے کہیں چارہ گرِ درد
اس کو بھی ذرا اے دلِ بیمار سمجھنا

Sunday, 21 August 2016

کیا کرے گا دوسروں کو جان کر

 کیا کرے گا دوسروں کو جان کر

پہلے اپنے آپ کی پہچان کر

یہ زمانہ لا ابالی کا نہیں

پھونک کر پی چھاچھ پانی چھان کر

کیوں الجھتے جا رہے ہو بار بار

دل میں آخر آئے ہو کیا ٹھان کر

بن کر مری محفل سے تو خورشید ازل جا

بن کر مِری محفل سے تو خورشیدِ ازل جا
مغرب میں اگر ڈوبے تو مشرق سے نکل جا
دریا ہے تو دریا کی طرح رہ، کہا کس نے
برسات کے نالے کی طرح بھر کے ابل جا
اے شامِ بلا،۔ شامِ مصیبت،۔ مِری شامت
کیوں سر پہ کھڑی ہے مِرے، ٹل جا ارے ٹل جا

لا ملے تو میرے زخم قلب مضطر کا جواب

لا ملے تو، میرے زخمِ قلبِ مضطر کا جواب
ڈھونڈ کچھ دن اے بہار اور اس گلِ تر کا جواب
اپنی ویرانی میں دونوں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں
گھر بیاباں کا بیاباں ہے، مِرے گھر کا جواب
میری خاموشی سے چلا اٹھے گا ایک دن رقیب
طعنہ زن کو آدمیت دے گی نشتر کا جواب

نام ہی رہ گیا دنیا میں وفاداری کا

نام ہی رہ گیا دنیا میں وفاداری کا
یہ زمانہ ہے تصنع کا، اداکاری کا
روز مر مر کے جئے جانے میں حاصل تھا کمال
موت نے دیکھا تماشا، مِری جیداری کا
گھر پہ روزانہ وہ آتے تھے، عیادت کیلئے
کیا سہانا تھا زمانہ مِری بیماری کا

آپ حد سے گزر گئے شاید

آپ حد سے گزر گئے شاید 
پستیوں میں اتر گئے شاید
غم، خوشی بے اثر ہیں دونوں ہی
اپنے جذبات مر گئے شاید
ہے پریشاں خیال دل جمعی
ٹوٹ کر ہم بکھر گئے شاید

بازار محبت کی تو اپنی ہی ہوا ہے

بازارِ محبت کی تو اپنی ہی ہوا ہے 
بِکتی ہی نہیں جو کبھی وہ جنسِ وفا ہے 
دشمن کو بھی ڈالے نہ خدا شک کے مرض میں 
اس کے لیے دنیا میں دوا ہے، نہ دعا ہے 
سنتا ہی نہیں وہ بتِ بے مہر کسی کی
معلوم نہیں کون سی مٹی کا بنا ہے 

Monday, 18 April 2016

اک اضطراب ہے الجھن ہے کیا کیا جائے

اک اضطراب ہے الجھن ہے کیا کیا جائے
دل و دماغ میں ان بن ہے کیا کیا جائے
درست ہی سہی، دشمن سے دوستی کا خیال
ہمارا دوست ہی دشمن ہے کیا کیا جائے
ہر ایک پھول دہکتا ہوا ہے انگارہ
عجیب صورتِ گلشن ہے کیا کیا جائے

بہ عنوان خلوص دل کہیں ایسا نہ کر لینا

بہ عنوانِ خلوصِ دل کہیں ایسا نہ کر لینا
تماشابن کے اپنے آپ کو رسوا نہ کر لینا
تقاضا ابرباراں کا ہے پی لے جھوم کر واعظ
پھر اس کے بعد سو توبہ سر مے خانہ کر لینا
بہت نازک زمانہ ہے ضمیر اپنا سلامت رکھ
کہیں نا سمجھی میں ایمان کا سودا نہ کر لینا