بہ عنوانِ خلوصِ دل کہیں ایسا نہ کر لینا
تماشا بن کے اپنے آپ کو رسوا نہ کر لینا
تقاضا ابر باراں کا ہے پی لے جھوم کر واعظ
پھر اس کے بعد سو توبہ سر مۓ خانہ کر لینا
بہت نازک زمانہ ہے ضمیر اپنا سلامت رکھ
ضرورت مطلبی دنیا سے ہے ہشیار رہنے کی
کوئی مطلب سے آتا ہو تو دل دریا نہ کر لینا
زمانہ سیدھا چلنے والوں ہی سے الٹا چلتا ہے
تو سیدھا چل کے اپنے کام کو الٹا نہ کر لینا
وہی دنیا تماشا دیکھو اب ہے میری دیوانی
کہ جو آساں سمجھتی تھی مجھے دیوانہ کر لینا
یہ دنیا ہے یہاں ولیوں یہ بھی اٹھ جاتی ہے انگلی
کرے طعنہ زنی کوئی تو دل چھوٹا نہ کر لینا
یہاں تو یاروں کی یاری میں بھی ہے خضرؔ عیاری
سبق تو اچھا ہے دشمن سے بھی یارانہ کر لینا
خضر ناگپوری
No comments:
Post a Comment