کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا
سب اجنبی ہیں ایک دل زار کے سوا
اس دشت بے خودی میں کہ دنیا کہیں جسے
غافل سبھی ہیں اک نگۂ یار کے سوا
چہروں کے چاند راکھ ہوئے بام بجھ گئے
کچھ بھی بچا نہ حسرت دیدار کے سوا
کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا
سب اجنبی ہیں ایک دل زار کے سوا
اس دشت بے خودی میں کہ دنیا کہیں جسے
غافل سبھی ہیں اک نگۂ یار کے سوا
چہروں کے چاند راکھ ہوئے بام بجھ گئے
کچھ بھی بچا نہ حسرت دیدار کے سوا
میری نظر کے لیے کوئی روایت نہ تھی
سب کی طرح دیکھنا جبر تھا عادت نہ تھی
ایسا لگا جیسے میں منظر مانوس تھا
اس کی نگاہوں میں کل شوخیٔ حیرت نہ تھی
میرے شب و روز تھے میری صدی کی طرح
کون سا لمحہ تھا وہ جس میں قیامت نہ تھی
ہجومِ شعلہ میں تھا، حلقۂ شرر میں تھا
کب اپنا خواب میں کوئی سایۂ شجر میں تھا
میں آج پھر تجھے کیا دیکھ پاؤں گا دنیا
وہ شخص دیر تلک آج پھر نظر میں تھا
سیہ فضاؤں میں اونچی اڑان سے پہلے
کرن کرن کا اجالا سا بال و پر میں تھا
ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے
میں ڈھلتا نشہ ہوں موجِ طرب ابھار مجھے
اے روح عصر! میں تیرا ہوں تیرا حصہ ہوں
خود اپنا خواب سمجھ کر ذرا سنوار مجھے
بکھر کے سب میں عبث انتظار ہے اپنا
جلا کے خاک کر اے شمع انتظار! مجھے
کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا
سب اجنبی ہیں ایک دلِ زار کے سوا
اس دشتِ بیخودی میں کہ دنیا کہیں جسے
غافل سبھی ہیں اک نِگۂ یار کے سوا
چہروں کے چاند راکھ ہوئے بام بجھ گئے
کچھ بھی بچا نہ حسرتِ دیدار کے سوا
عذاب ہمسفری سے گریز تھا مجھ کو
پکارتا رہا اک ایک قافلہ مجھ کو
میں اپنی لوٹتی آواز کے حصار میں تھا
وہ لمحہ جب تری آواز نے چھوا مجھ کو
یہ کس نے چھین لیے مجھ سے خوشبوؤں کے مکاں
یہ کون دشت کی دیوار کر گیا مجھ کو