Showing posts with label انور صدیقی. Show all posts
Showing posts with label انور صدیقی. Show all posts

Sunday, 10 April 2022

کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا

 کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا

سب اجنبی ہیں ایک دل زار کے سوا

اس دشت بے خودی میں کہ دنیا کہیں جسے

غافل سبھی ہیں اک نگۂ یار کے سوا

چہروں کے چاند راکھ ہوئے بام بجھ گئے

کچھ بھی بچا نہ حسرت دیدار کے سوا

Wednesday, 31 March 2021

میری نظر کے لیے کوئی روایت نہ تھی

 میری نظر کے لیے کوئی روایت نہ تھی

سب کی طرح دیکھنا جبر تھا عادت نہ تھی

ایسا لگا جیسے میں منظر مانوس تھا

اس کی نگاہوں میں کل شوخیٔ حیرت نہ تھی

میرے شب و روز تھے میری صدی کی طرح

کون سا لمحہ تھا وہ جس میں قیامت نہ تھی

Tuesday, 23 March 2021

ہجوم شعلہ میں تھا حلقۂ شرر میں تھا

 ہجومِ شعلہ میں تھا، حلقۂ شرر میں تھا

کب اپنا خواب میں کوئی سایۂ شجر میں تھا

میں آج پھر تجھے کیا دیکھ پاؤں گا دنیا

وہ شخص دیر تلک آج پھر نظر میں تھا

سیہ فضاؤں میں اونچی اڑان سے پہلے

کرن کرن کا اجالا سا بال و پر میں تھا

Monday, 22 March 2021

ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے

 ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے

میں ڈھلتا نشہ ہوں موجِ طرب ابھار مجھے

اے روح عصر! میں تیرا ہوں تیرا حصہ ہوں

خود اپنا خواب سمجھ کر ذرا سنوار مجھے

بکھر کے سب میں عبث انتظار ہے اپنا

جلا کے خاک کر اے شمع انتظار! مجھے

کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا

 کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا

سب اجنبی ہیں ایک دلِ زار کے سوا

اس دشتِ بیخودی میں کہ دنیا کہیں جسے

غافل سبھی ہیں اک نِگۂ یار کے سوا

چہروں کے چاند راکھ ہوئے بام بجھ گئے

کچھ بھی بچا نہ حسرتِ دیدار کے سوا

Thursday, 19 November 2020

عذاب ہمسفری سے گریز تھا مجھ کو

 عذاب ہمسفری سے گریز تھا مجھ کو

پکارتا رہا اک ایک قافلہ مجھ کو

میں اپنی لوٹتی آواز کے حصار میں تھا

وہ لمحہ جب تری آواز نے چھوا مجھ کو

یہ کس نے چھین لیے مجھ سے خوشبوؤں کے مکاں

یہ کون دشت کی دیوار کر گیا مجھ کو