آدمی کا ہے فسانہ خاک سے
ہے ازل سے دوستانہ خاک سے
آپ کے چہرے پہ رونق ہے بہت
کیا کوئی نکلا خزانہ خاک سے؟
میں کسی کا بھی رہوں محتاج کیوں
پا رہا ہوں آب و دانہ خاک سے
آدمی کا ہے فسانہ خاک سے
ہے ازل سے دوستانہ خاک سے
آپ کے چہرے پہ رونق ہے بہت
کیا کوئی نکلا خزانہ خاک سے؟
میں کسی کا بھی رہوں محتاج کیوں
پا رہا ہوں آب و دانہ خاک سے
میری منزل بھی آسمان میں ہے
اور دم بھی مِری اڑان میں ہے
کوئی لیتا نہیں کرائے پر
جیسے آسیب اس مکان میں ہے
کوئی جلتا نہیں چراغ وہاں
روشنی پھر بھی اس مکان میں ہے
غمِ حیات کی پہنائیوں سے خوفزدہ
میں عمر بھر رہا ناکامیوں سے خوفزدہ
جہاں بھی دیکھو تعصّب کی چل رہی ہے ہوا
ہمارا شہر ہے بلوائیوں سے خوفزدہ
کبھی کسی کا بُرا ہی نہیں کیا پھر بھی
زمانہ ہے مِری خوش حالیوں سے خوفزدہ
جو تِرے پہلو میں گزری زندگی اچھی لگی
غم تِرا اچھا لگا،۔ تیری خوشی اچھی لگی
یاس کے موسم میں اس کی دل لگی اچھی لگی
آنکھ نم ہو کر بھی ہونٹوں پر ہنسی اچھی لگی
دُکھ بھی اس کی راہ میں ہیں سُکھ بھی اس کی راہ میں
موت سے ہر آدمی کو زندگی اچھی لگی
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
گر ہے گل میں تازگی یا رب تیری شان
مہر و ماہ میں روشنی یا رب تیری شان
بخشی کلیوں کو ہنسی یا رب تیری شان
دی بو کو آوارگی یا رب تیری شان
ہم کو بخشی زندگی یا رب تیری شان
دل بھی تیرا جان بھی یا رب تیری شان
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کُفر کی کالی گھٹاؤں کو ہٹانے والے
بُت پرستوں کو نئی راہ دکھانے والے
مشعلیں دینِ الہیٰ کی جلانے والے
اس کے صحراؤں کو گلزار بنانے والے
بھولے بھٹکے کو راہِ راست پہ لانے والے
خوابِ غفلت سے بہر گام جگانے والے
ہر ایک لفظ اس کا دعا کی طرح لگا
اور جو کرم کیا، وہ خدا کی طرح لگا
بے چین دل و دماغ، پریشان آنکھ نم
گزرا جو آج دن وہ سزا کی طرح لگا
ہے کون اور آیا کہاں سے؟ خبر نہیں
وہ دیکھنے میں اہلِ وفا کی طرح لگا
حق بات کرنے والے سرِ دار آ گئے
راہِ خدا میں صاحبِ ایثار آ گئے
جو خوش تھے زیرِ سایۂ دیوار آ گئے
بیزار ہم تھے ، زیست سے بیزار آ گئے
اس آس میں کہ آئے گا رحمت کو اس کی جوش
ظلمت میں روشنی کے طلبگار آ گئے