Showing posts with label ساحر شیوی. Show all posts
Showing posts with label ساحر شیوی. Show all posts

Monday, 2 October 2023

آدمی کا ہے فسانہ خاک سے

 آدمی کا ہے فسانہ خاک سے

ہے ازل سے دوستانہ خاک سے

آپ کے چہرے پہ رونق ہے بہت

کیا کوئی نکلا خزانہ خاک سے؟

میں کسی کا بھی رہوں محتاج کیوں

پا رہا ہوں آب و دانہ خاک سے

Wednesday, 26 October 2022

میری منزل بھی آسمان میں ہے

 میری منزل بھی آسمان میں ہے 

اور دم بھی مِری اڑان میں ہے

کوئی لیتا نہیں کرائے پر 

جیسے آسیب اس مکان میں ہے

کوئی جلتا نہیں چراغ وہاں 

روشنی پھر بھی اس مکان میں ہے

Thursday, 20 October 2022

غم حیات کی پہنائیوں سے خوفزدہ

 غمِ حیات کی پہنائیوں سے خوفزدہ 

میں عمر بھر رہا ناکامیوں سے خوفزدہ

جہاں بھی دیکھو تعصّب کی چل رہی ہے ہوا 

ہمارا شہر ہے بلوائیوں سے خوفزدہ

کبھی کسی کا بُرا ہی نہیں کیا پھر بھی 

زمانہ ہے مِری خوش حالیوں سے خوفزدہ

Wednesday, 19 October 2022

جو ترے پہلو میں گزری زندگی اچھی لگی

 جو تِرے پہلو میں گزری زندگی اچھی لگی 

غم تِرا اچھا لگا،۔ تیری خوشی اچھی لگی

یاس کے موسم میں اس کی دل لگی اچھی لگی 

آنکھ نم ہو کر بھی ہونٹوں پر ہنسی اچھی لگی

دُکھ بھی اس کی راہ میں ہیں سُکھ بھی اس کی راہ میں 

موت سے ہر آدمی کو زندگی اچھی لگی

Friday, 19 August 2022

گر ہے گل میں تازگی یا رب تیری شان

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


گر ہے گل میں تازگی یا رب تیری شان

مہر و ماہ میں روشنی یا رب تیری شان

بخشی کلیوں کو ہنسی یا رب تیری شان

دی بو کو آوارگی یا رب تیری شان

ہم کو بخشی زندگی یا رب تیری شان

دل بھی تیرا جان بھی یا رب تیری شان

Thursday, 4 August 2022

کفر کی کالی گھٹاؤں کو ہٹانے والے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کُفر کی کالی گھٹاؤں کو ہٹانے والے

بُت پرستوں کو نئی راہ دکھانے والے

مشعلیں دینِ الہیٰ کی جلانے والے

اس کے صحراؤں کو گلزار بنانے والے

بھولے بھٹکے کو راہِ راست پہ لانے والے

خوابِ غفلت سے بہر گام جگانے والے

Tuesday, 26 July 2022

ہر ایک لفظ اس کا دعا کی طرح لگا

ہر ایک لفظ اس کا دعا کی طرح لگا

اور جو کرم کیا، وہ خدا کی طرح لگا

بے چین دل و دماغ، پریشان آنکھ نم

گزرا جو آج دن وہ سزا کی طرح لگا

ہے کون اور آیا کہاں سے؟ خبر نہیں

وہ دیکھنے میں اہلِ وفا کی طرح لگا

Thursday, 25 March 2021

حق بات کرنے والے سر دار آ گئے

حق بات کرنے والے سرِ دار آ گئے

راہِ خدا میں صاحبِ ایثار آ گئے

جو خوش تھے زیرِ سایۂ دیوار آ گئے

بیزار ہم تھے ، زیست سے بیزار آ گئے

اس آس میں کہ آئے گا رحمت کو اس کی جوش

ظلمت میں روشنی کے طلبگار آ گئے