جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے
بالکل ایسا میرا گھر سے رشتہ ہے
میری آنکھیں کچھ سوئی سی رہتی ہیں
شاید ان کا خواب نگر سے رشتہ ہے
تجھ کو کیسے بھول سکے گا دل میرا
تیرا میرا تو اندر سے رشتہ ہے
جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے
بالکل ایسا میرا گھر سے رشتہ ہے
میری آنکھیں کچھ سوئی سی رہتی ہیں
شاید ان کا خواب نگر سے رشتہ ہے
تجھ کو کیسے بھول سکے گا دل میرا
تیرا میرا تو اندر سے رشتہ ہے
نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم تِرے حوالے سے
وہی ہے درد کا عالم ترے حوالے سے
کھلے جو زخم کے ٹانکے تو یہ ہوا محسوس
صبا نے رکھ دیا مرہم ترے حوالے سے
وہی ہے دل کا تڑپنا وہی ہے کیفیت
وہی مزاج ہے پیہم ترے حوالے سے
کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں
دیار غیر میں ٹھنڈک وطن سی پاتا ہوں
میں جب بھی تجزیہ کرتا ہوں تیرا اے دنیا
اس آئینے میں تجھے بد چلن سی پاتا ہوں
خدا کرے کہ مِرے دوست خیریت سے ہوں
عجیب طرح کی دل میں چبھن سی پاتا ہوں
لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے
سچائی کی اپنی ریت پرانی ہے
لب پر آہ مسلسل آنکھ میں پانی ہے
تنہائی کا ہر لمحہ نقصانی ہے
شور ہمیشہ رہتا ہے اس کوچے میں
دل ہے یا سینے میں اک زندانی ہے
آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو
سر اٹھا کر چلنے والو خاکساری سیکھ لو
پیش خیمہ ہیں تنزل کا تکبر اور غرور
مرتبہ چاہو تو پہلے انکساری سیکھ لو
خود بدل جائے گا نفرت کی فضاؤں کا مزاج
پیار کی خوشبو لٹاؤ مشکباری سیکھ لو