Showing posts with label ماجد دیوبندی. Show all posts
Showing posts with label ماجد دیوبندی. Show all posts

Sunday, 3 April 2022

جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

 جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

بالکل ایسا میرا گھر سے رشتہ ہے

میری آنکھیں کچھ سوئی سی رہتی ہیں

شاید ان کا خواب نگر سے رشتہ ہے

تجھ کو کیسے بھول سکے گا دل میرا

تیرا میرا تو اندر سے رشتہ ہے

Saturday, 2 April 2022

نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم ترے حوالے سے

 نہ کچھ زیادہ نہ کچھ کم تِرے حوالے سے

وہی ہے درد کا عالم ترے حوالے سے

کھلے جو زخم کے ٹانکے تو یہ ہوا محسوس

صبا نے رکھ دیا مرہم ترے حوالے سے

وہی ہے دل کا تڑپنا وہی ہے کیفیت

وہی مزاج ہے پیہم ترے حوالے سے

Friday, 1 April 2022

کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں

 کوئی ادا جو کہیں اپنے پن سی پاتا ہوں

دیار غیر میں ٹھنڈک وطن سی پاتا ہوں

میں جب بھی تجزیہ کرتا ہوں تیرا اے دنیا

اس آئینے میں تجھے بد چلن سی پاتا ہوں

خدا کرے کہ مِرے دوست خیریت سے ہوں

عجیب طرح کی دل میں چبھن سی پاتا ہوں

Thursday, 31 March 2022

لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے

 لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے

سچائی کی اپنی ریت پرانی ہے

لب پر آہ مسلسل آنکھ میں پانی ہے

تنہائی کا ہر لمحہ نقصانی ہے

شور ہمیشہ رہتا ہے اس کوچے میں

دل ہے یا سینے میں اک زندانی ہے

Wednesday, 30 March 2022

آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو

 آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو

سر اٹھا کر چلنے والو خاکساری سیکھ لو

پیش خیمہ ہیں تنزل کا تکبر اور غرور

مرتبہ چاہو تو پہلے انکساری سیکھ لو

خود بدل جائے گا نفرت کی فضاؤں کا مزاج

پیار کی خوشبو لٹاؤ مشکباری سیکھ لو