Sunday, 3 April 2022

جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

 جیسے ان سجدوں کا سر سے رشتہ ہے

بالکل ایسا میرا گھر سے رشتہ ہے

میری آنکھیں کچھ سوئی سی رہتی ہیں

شاید ان کا خواب نگر سے رشتہ ہے

تجھ کو کیسے بھول سکے گا دل میرا

تیرا میرا تو اندر سے رشتہ ہے

اے شہزادی! ساتھ ہمارے مت چلنا

بنجاروں کا دھوپ سفر سے رشتہ ہے

لوحِ فلک پر لکھی ہے جس کی عزت

ہم لوگوں کا اس کے در سے رشتہ ہے

جس کے سائے میں ہم بخشے جائیں گے

ہم لوگوں کا اس چادر سے رشتہ ہے

وہ اوروں پر سنگ اچھالے نا ممکن

ماجد کا شیشے کے گھر سے رشتہ ہے


ماجد دیوبندی

No comments:

Post a Comment