وہ جلوۂ جانانہ رعنائی ہی رعنائی
یاں میرے مقدر میں تنہائی ہی تنہائی
پُر خار ہیں یہ راہیں دشوار ہیں یہ رستے
حاصل ہے محبت کا رُسوائی ہی رُسوائی
پھر یاد کی باراتیں، اس دل میں اتر آئیں
پھر گونجے وہی نغمے شہنائی ہی شہنائی
کل فتح و ظفر یارو! اپنا ہی مقدر تھی
اس قوم کے حصے میں پسپائی ہی پسپائی
تُو ڈوب سحر اس میں اور ڈھونڈ کے لا موتی
اس بحرِ معانی میں، گہرائی ہی گہرائی
عفراء بتول سحر
No comments:
Post a Comment