یوں اداسی میں ملی ہے تِرے آنے کی خبر
جیسے مفلس کو ملے ایک خزانے کی خبر
مستئ عشق میں ڈُوبے ہیں تِرے دیوانے
اِن کو عُقبٰی کی، نہ اپنی، نہ زمانے کی خبر
دل تِرے ہاتھ پہ رکھ دیتا میں اک لمحے میں
کاش ہوتی جو مجھے دل کے ٹھکانے کی خبر
یوں اداسی میں ملی ہے تِرے آنے کی خبر
جیسے مفلس کو ملے ایک خزانے کی خبر
مستئ عشق میں ڈُوبے ہیں تِرے دیوانے
اِن کو عُقبٰی کی، نہ اپنی، نہ زمانے کی خبر
دل تِرے ہاتھ پہ رکھ دیتا میں اک لمحے میں
کاش ہوتی جو مجھے دل کے ٹھکانے کی خبر
زعفرانی کلام
دال کھائی ہے دوستوں نے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے جبھی
اب تو گوبھی کو بھی ترستے ہیں
روز کھاتے تھے مچھلیاں جو کبھی
فیڈ مہنگی ہوئی ہے مرغی کی
آٹھ سو کی وہ ہو گئی ہے تبھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رسول اللہ میری حالت پہ رحمت کی نظر کیجے
غریب و بے نوا ہوں، خاکساری پر نظر کیجے
میرے سینے کا مسکن آپ کا زخم جدائی ہے
میرا دل سینکڑوں آہوں کا گلشن ہے نظر کیجے
میرے دل کے مکیں، آرام جاں، صبر و سکوں آقا
رُخ پُر نُور سے اس جانِ بسمل پر نظر کیجے
پیڑ پالے ہیں دوستوں کی جگہ
ہوش بویا ہے مخمصوں کی جگہ
اب ہماری فگار آنکھوں سے
خون بہتا ہے آنسوؤں کی جگہ
ان پہاڑوں کی تر فضاؤں میں
روگ پھیلا ہے خوشبوؤں کی جگہ