Showing posts with label فیصل کاشمیری. Show all posts
Showing posts with label فیصل کاشمیری. Show all posts

Friday, 28 March 2025

یوں اداسی میں ملی ہے ترے آنے کی خبر

 یوں اداسی میں ملی ہے تِرے آنے کی خبر

جیسے مفلس کو ملے ایک خزانے کی خبر

مستئ عشق میں ڈُوبے ہیں تِرے دیوانے

اِن کو عُقبٰی کی، نہ اپنی، نہ زمانے کی خبر

دل تِرے ہاتھ پہ رکھ دیتا میں اک لمحے میں

کاش ہوتی جو مجھے دل کے ٹھکانے کی خبر

Sunday, 3 November 2024

دال کھائی ہے دوستوں نے ابھی

 زعفرانی کلام


دال کھائی ہے دوستوں نے ابھی

کوئی تازہ ہوا چلی ہے جبھی

اب تو گوبھی کو بھی ترستے ہیں

روز کھاتے تھے مچھلیاں جو کبھی

فیڈ مہنگی ہوئی ہے مرغی کی

آٹھ سو کی وہ ہو گئی ہے تبھی

Monday, 9 September 2024

رسول اللہ میری حالت پہ رحمت کی نظر کیجے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


رسول اللہ میری حالت پہ رحمت کی نظر کیجے

غریب و بے نوا ہوں، خاکساری پر نظر کیجے

میرے سینے کا مسکن آپ کا زخم جدائی ہے

میرا دل سینکڑوں آہوں کا گلشن ہے نظر کیجے

میرے دل کے مکیں، آرام جاں، صبر و سکوں آقا

رُخ پُر نُور سے اس جانِ بسمل پر نظر کیجے

Sunday, 8 September 2024

قافلے خوامخواہ نہیں بھٹکے سب لٹیرے تھے رہبروں

 پیڑ پالے ہیں دوستوں کی جگہ

ہوش بویا ہے مخمصوں کی جگہ

اب ہماری فگار آنکھوں سے

خون بہتا ہے آنسوؤں کی جگہ

ان پہاڑوں کی تر فضاؤں میں

روگ پھیلا ہے خوشبوؤں کی جگہ