پہلی کرن کا بوجھ
سگریٹ کا ایک لمبا کش اور کھانسی
گھونٹ گھونٹ چائے
پگھلتے خوابوں کے موم
گدلے کاغذ پر دنیا کے اعمال کا پیلا زہر
ہم کتنے اچھے تھے
پہلی کرن کا بوجھ
سگریٹ کا ایک لمبا کش اور کھانسی
گھونٹ گھونٹ چائے
پگھلتے خوابوں کے موم
گدلے کاغذ پر دنیا کے اعمال کا پیلا زہر
ہم کتنے اچھے تھے
گرنا نہیں ہے اور سنبھلنا نہیں ہے اب
بیٹھے ہیں رہگزار پہ چلنا نہیں ہے اب
پچھلا پہر ہے شب کا سویرے کی خیر ہو
بجھتے ہوئے چراغ ہیں جلنا نہیں ہے اب
ہے آستیں سے کام نہ دامن سے کچھ غرض
پتھر بنے ہوئے ہیں، پگھلنا نہیں ہے اب
یوں لگتا ہے سب کچھ کھونے آیا تھا
میں اس گھر میں تجھ کو رونے آیا تھا
تُو میرے ہمراہ تو آیا تھا، لیکن
تنہائی کے کانٹے بونے آیا تھا
میں اس کے دیدار سے کب سیراب ہوا
وہ تو بس دامن کو بھگونے آیا تھا
رنج گران شوق کا حاصل نہ کہہ اسے
ترک سفر کیا ہے تو منزل نہ کہہ اسے
یہ ضبط ضبط غم نہیں اک بے دلی سی ہے
یہ دل حریف درد نہیں دل نہ کہہ اسے
طغیانیاں کچھ اور ہیں موجوں میں ریت کی
میں ڈوبتا ہوں عشرتِ ساحل نہ کہہ اسے
عذاب ہو گئی زنجیرِ دست و پا مجھ کو
جو ہو سکے تو کہیں دار پہ چڑھا مجھ کو
ترس گیا ہوں میں سورج کی روشنی کیلئے
وہ دی ہے سایۂ دیوار نے سزا مجھ کو
جو دیکھے تو اسی سے ہے زندگی میرے
مگر مٹا بھی رہی ہے یہی ہوا مجھ کو