Showing posts with label مغنی تبسم. Show all posts
Showing posts with label مغنی تبسم. Show all posts

Wednesday, 20 April 2022

سگریٹ کا ایک لمبا کش اور کھانسی

 پہلی کرن کا بوجھ


سگریٹ کا ایک لمبا کش اور کھانسی

گھونٹ گھونٹ چائے

پگھلتے خوابوں کے موم

گدلے کاغذ پر دنیا کے اعمال کا پیلا زہر

ہم کتنے اچھے تھے

Saturday, 19 December 2020

گرنا نہیں ہے اور سنبھلنا نہیں ہے اب

 گرنا نہیں ہے اور سنبھلنا نہیں ہے اب

بیٹھے ہیں رہگزار پہ چلنا نہیں ہے اب

پچھلا پہر ہے شب کا سویرے کی خیر ہو

بجھتے ہوئے چراغ ہیں جلنا نہیں ہے اب

ہے آستیں سے کام نہ دامن سے کچھ غرض

پتھر بنے ہوئے ہیں، پگھلنا نہیں ہے اب

Saturday, 12 December 2020

یوں لگتا ہے سب کچھ کھونے آیا تھا

 یوں لگتا ہے سب کچھ کھونے آیا تھا

میں اس گھر میں تجھ کو رونے آیا تھا

تُو میرے ہمراہ تو آیا تھا، لیکن

تنہائی کے کانٹے بونے آیا تھا

میں اس کے دیدار سے کب سیراب ہوا

وہ تو بس دامن کو بھگونے آیا تھا

Friday, 11 December 2020

رنج گران شوق کا حاصل نہ کہہ اسے

 رنج گران شوق کا حاصل نہ کہہ اسے

ترک سفر کیا ہے تو منزل نہ کہہ اسے

یہ ضبط ضبط غم نہیں اک بے دلی سی ہے

یہ دل حریف درد نہیں دل نہ کہہ اسے

طغیانیاں کچھ اور ہیں موجوں میں ریت کی

میں ڈوبتا ہوں عشرتِ ساحل نہ کہہ اسے

Thursday, 19 November 2020

عذاب ہو گئی زنجیر دست و پا مجھ کو

 عذاب ہو گئی زنجیرِ دست و پا مجھ کو

جو ہو سکے تو کہیں دار پہ چڑھا مجھ کو

ترس گیا ہوں میں سورج کی روشنی کیلئے

وہ دی ہے سایۂ دیوار نے سزا مجھ کو

جو دیکھے تو اسی سے ہے زندگی میرے

مگر مٹا بھی رہی ہے یہی ہوا مجھ کو

Tuesday, 27 October 2015

چڑھے ہوئے تھے جو دریا اتر گئے اب تو

چڑھے ہوئے تھے جو دریا اتر گئے اب تو
محبتوں کے زمانے گزر گئے اب تو
نہ آ ہٹیں ہیں نہ دستک نہ چاپ قدموں کی 
نواحِ جاں سے صدا کے ہنر گئے اب تو 
صبا کے ساتھ گئی بوئے پیرہن اس کی 
زمیں کی گود میں گیسو بکھر گئے اب تو 

چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا

چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا 
ہر ایک دست طلب میں سوال میرا تھا 
ہر ایک پائے شکستہ میں تھی مِری زنجیر 
ہر ایک دست طلب میں سوال میرا تھا
میں ریزہ ریزہ بکھرتا چلا گیا خود ہی 
کہ اپنے آپ سے بچنا محال میرا تھا