Saturday, 12 December 2020

یوں لگتا ہے سب کچھ کھونے آیا تھا

 یوں لگتا ہے سب کچھ کھونے آیا تھا

میں اس گھر میں تجھ کو رونے آیا تھا

تُو میرے ہمراہ تو آیا تھا، لیکن

تنہائی کے کانٹے بونے آیا تھا

میں اس کے دیدار سے کب سیراب ہوا

وہ تو بس دامن کو بھگونے آیا تھا

میں تکتا تھا اس کو پیاسے ہونٹوں سے

بادل میری ناؤ ڈبونے آیا تھا

گہری نیند سے مجھ کو جگا کر چھوڑ گیا

خواب مری آنکھوں میں سونے آیا تھا


مغنی تبسم

No comments:

Post a Comment