کبھی عشق ہو تو پتہ چلے
یہ جو لوگ سے ہیں چھپے ہوئے پسِ دوستاں
تو یہ کون ہیں؟
یہ جو روگ سے ہیں پڑے ہوئے پسِ جسم و جاں
تو یہ کس لیے؟
یہ جو کان ہیں میرے آہٹوں پہ لگے ہوئے
تو یہ کیوں بھلا؟
یہ جو ہونٹ ہیں صفِ دوستا ں میں سلے ہو ئے
تو یہ کس لیے؟
یہ جو اضطراب رچا ہوا ہے وجود میں
تو یہ کیوں بھلا؟
یہ جو سنگ سا کوئی آ گرا ہے جمود میں
تو یہ کسں لیے؟
یہ جو دل میں درد چھِڑا ہوا ہے لطیف سا
تو یہ کب سے ہے؟
یہ جو پتلیوں میں ہے عکس کوئی خفیف سا
سو یہ کب سے ہے؟
یہ جو آنکھ میں کوئی برف سی ہے جمی ہوئی
تو یہ کس لیے؟
یہ جو دوستوں میں نئی نئی ہے کمی ہوئی
تو یہ کیوں بھلا؟
یہ جو لوگ پیچھے پڑے ہوئے ہیں فضول میں
انہیں کیا پتہ، انہیں کیا خبر
کسی راہ کے کسی موڑ پہ جو انہیں ذرا
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے
اختر ملک
No comments:
Post a Comment