نہ جانے کیسی محبت کے وعدے رات جلے
جلا جو خط📧 تو میرے دونوں ہاتھ جلے
گنوا کے بیٹھی ہوں میں آج اپنا صبر و قرار
کہ ساتھ چاند کے میری تو ساری رات جلے
میں اس کہانی کا کردار ہوں کہ جس میں سدا
وفا کو لکھنے سے پہلے ہی میرا ہاتھ جلے
خزاں کے بعد بہاروں کی راہ دیکھی تو
یہ حیف صد کہ مری آرزو کے پات جلے
ہے پیاس ایسی کہ دلشاد آنسو تک ہیں پیے
کہ تیرے ہجر میں دل میرا بات بات جلے
دلشاد نسیم
No comments:
Post a Comment