دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں
کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں
خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب
لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں
اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب
پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں
دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں
کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں
خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب
لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں
اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب
پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں
مکر و فریب و ظلم و جفا چھوڑئیے حضور
اچھا نہیں یہ آپ کا حد سے سوا غرور
بینا جو آنکھ دل کی ہو ذرہ ہے آفتاب
ظلمت جو دل میں ہو تو کسی شے میں کیوں ہو نور
آلودگئ ذہن و دل ہی کی یہ دین ہے
چہرہ پہ ہی خوشی ہے نہ تو دل میں کچھ سرور
دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے
دل میں دشمن کے بھی گھر اپنا بنانا چاہیے
آپ کے دل میں جگہ میرے لیے کیا سچ ہے یہ
اللہ، اللہ، اس سے بہتر کیا ٹھکانہ چاہیے
گر کبھی نفرت کی کوئی لہر اٹھے قلب سے
جس طرح ہو اس کو تو قابو میں لانا چاہیے
کسی بھی حادثے سے زندگی کے ہم نہیں ڈرتے
کسی بھی حال میں ہم حوصلہ کچھ کم نہیں کرتے
ہم آنے والے کل کے واسطے بے چین رہتے ہیں
جو کل گزرا ہے اس کل کا کبھی ماتم نہیں کرتے
ہماری ذات سے تکلیف پہنچے کوئی نا ممکن
کوئی ناحق اگر روٹھے تو اس کا غم نہیں کرتے