Showing posts with label حازم حسان. Show all posts
Showing posts with label حازم حسان. Show all posts

Wednesday, 17 June 2026

دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں

 دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں

کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں

خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب

لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں

اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب

پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں

Thursday, 15 May 2025

مکر و فریب و ظلم و جفا چھوڑئیے حضور

 مکر و فریب و ظلم و جفا چھوڑئیے حضور

اچھا نہیں یہ آپ کا حد سے سوا غرور

بینا جو آنکھ دل کی ہو ذرہ ہے آفتاب

ظلمت جو دل میں ہو تو کسی شے میں کیوں ہو نور

آلودگئ ذہن و دل ہی کی یہ دین ہے

چہرہ پہ ہی خوشی ہے نہ تو دل میں کچھ سرور

Saturday, 17 April 2021

دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے

دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے

دل میں دشمن کے بھی گھر اپنا بنانا چاہیے

آپ کے دل میں جگہ میرے لیے کیا سچ ہے یہ

اللہ، اللہ، اس سے بہتر کیا ٹھکانہ چاہیے

گر کبھی نفرت کی کوئی لہر اٹھے قلب سے

جس طرح ہو اس کو تو قابو میں لانا چاہیے

Thursday, 30 April 2015

کسی بھی حادثے سے زندگی کے ہم نہیں ڈرتے

 کسی بھی حادثے سے زندگی کے ہم نہیں ڈرتے

کسی بھی حال میں ہم حوصلہ کچھ کم نہیں کرتے

ہم آنے والے کل کے واسطے بے چین رہتے ہیں

جو کل گزرا ہے اس کل کا کبھی ماتم نہیں کرتے

ہماری ذات سے تکلیف پہنچے کوئی نا ممکن

کوئی ناحق اگر روٹھے تو اس کا غم نہیں کرتے