کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم
کسی بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم
میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے
کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم
بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے
کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم
کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم
کسی بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم
میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے
کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم
بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے
کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم
حسن نالاں ہے کیا کِیا جائے
عشق حیراں ہے کیا کِیا جائے
ماں تو پھر ماں تھی اور اس کے بغیر
گھر بھی زنداں ہے کیا کِیا جائے
ہجر ہے، چاند رات ہے، میں ہوں
اور گریباں ہے کیا کِیا جائے
سچ بتائیں تو سراسر نہیں دیکھا تھا کبھی
ہم نے ایسا کوئی سُندر نہیں دیکھا تھا کبھی
اور پھر اک روز اسے دیکھنے باہر آئے
حُسن کا کوئی سمندر نہیں دیکھا تھا کبھی
ہم بھی اس شخص کی آنکھوں پہ مرا کرتے تھے
جس نے آنکھیں تک اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا کبھی
دل کے اس پار ہو گیا تھا جی
لفظ، تلوار ہو گیا تھا جی
اچھا خاصا ذہین لڑکا تھا
پھر اُسے پیار ہو گیا تھا جی
وہ تو یوں ہی ذرا پریشاں تھی
اور، میں بیمار ہو گیا تھا جی