Showing posts with label عثمان لیاقت. Show all posts
Showing posts with label عثمان لیاقت. Show all posts

Sunday, 12 April 2026

کہیں بھی حسن کو دیکھا تو یاد آئے تم

 کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم

کسی  بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم

میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے

کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم

بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے

کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم

Thursday, 13 February 2025

حسن نالاں ہے کیا کِیا جائے

 حسن نالاں ہے کیا کِیا جائے

عشق حیراں ہے کیا کِیا جائے

ماں تو پھر ماں تھی اور اس کے بغیر

گھر بھی زنداں ہے کیا کِیا جائے

ہجر ہے، چاند رات ہے، میں ہوں

اور گریباں ہے کیا کِیا جائے

Monday, 3 January 2022

سچ بتائیں تو سراسر نہیں دیکھا تھا کبھی

 سچ بتائیں تو سراسر نہیں دیکھا تھا کبھی

ہم نے ایسا کوئی سُندر نہیں دیکھا تھا کبھی

اور پھر اک روز اسے دیکھنے باہر آئے

حُسن کا کوئی سمندر نہیں دیکھا تھا کبھی

ہم بھی اس شخص کی آنکھوں پہ مرا کرتے تھے

جس نے آنکھیں تک اُٹھا کر نہیں دیکھا تھا کبھی

Saturday, 3 April 2021

دل کے اس پار ہو گیا تھا جی

 دل کے اس پار ہو گیا تھا جی

لفظ، تلوار ہو گیا تھا جی

اچھا خاصا ذہین لڑکا تھا

پھر اُسے پیار ہو گیا تھا جی

وہ تو یوں ہی ذرا پریشاں تھی

اور، میں بیمار ہو گیا تھا جی