Thursday, 13 February 2025

حسن نالاں ہے کیا کِیا جائے

 حسن نالاں ہے کیا کِیا جائے

عشق حیراں ہے کیا کِیا جائے

ماں تو پھر ماں تھی اور اس کے بغیر

گھر بھی زنداں ہے کیا کِیا جائے

ہجر ہے، چاند رات ہے، میں ہوں

اور گریباں ہے کیا کِیا جائے

دل تو راضی نہیں بچھڑنے پر

حکمِ جاناں ہے کیا کِیا جائے

یہ جدائی کا موڑ ہے اور وہ

ابھی ناداں ہے کیا کِیا جائے 

وہ کسی اور پر ہے اور یہ دل

اُس پہ قرباں ہے کیا کِیا جائے


عثمان لیاقت

No comments:

Post a Comment