Saturday, 15 February 2025

بھروسہ پھولوں کا کانٹوں کا اعتبار نہیں

 بھروسہ پھولوں کا کانٹوں کا اعتبار نہیں

تعینات کے خاکے ہیں یہ بہار نہیں

میں کیسے آپ کے وعدے کا اعتبار کروں

حضور جب مجھے خود اپنا اعتبار نہیں

مِرے شعور محبت کی جس سے ذلت ہو

خدا کے فضل سے ایسا مِرا شعار نہیں

وہ بت کدہ ہو کہ کعبہ ہو یا کہ مے خانہ

کسی جگہ بھی محبت سے مجھ کو عار نہیں

اٹھانی پڑتی ہے ذِلت قدم قدم پہ اسے

جہاں میں جس کا صداقت اگر شعار نہیں

کسی کی ساقی کے قدموں پہ ہے جبین نیاز

کسی کو ساقی پہ خود اپنے اعتبار نہیں

تُو اپنی آنکھوں سے ساقی پلا کے بیخود کر

پیوں میں جام سے ایسا تو بادہ خوار نہیں

گناہگاروں پہ ہے جب کہ رحمتوں کا نزول

کہوں میں کیسے پھر اکمل گناہ گار نہیں


اکمل آلدوری

No comments:

Post a Comment