امن عالم کی طلبگار ہوئی ہے دنیا
دیکھیے بر سرِ پیکار ہوئی ہے دنیا
سیم و زر کے لیے انسان بھی بک جاتے ہیں
کیا کوئی مصر کا بازار ہوئی ہے دنیا
درِ جاناں تو کوئی دور نہیں ہے لیکن
راستے کا مِرے دیوار ہوئی ہے دنیا
اک نہ اک دن تو یہ افسونِ ستم ٹوٹے گا
کیا ہوا آج جفا کار ہوئی ہے دنیا
زندگی آج بھی دریوزہ گرِ عشرت ہے
کس قدر مفلس و نادار ہوئی ہے دنیا
رقص فرما ہے تباہی کے قریب
مرضِ مہلک میں گرفتار ہوئی ہے دنیا
چند سکوں کے عوض دیکھ مِری جانِ غزل
اب مِرے فن کی خریدار ہوئی ہے دنیا
رضا اشک
No comments:
Post a Comment