Showing posts with label عرفان شاہد. Show all posts
Showing posts with label عرفان شاہد. Show all posts

Monday, 1 April 2024

جن کا دل ہی مزار ہو جائے

 جن کا دل ہی مزار ہو جائے

ان پہ واجب ہے دار ہو جائے

اب تو ممکن ہے جو ملے ہم سے

وہ تہجد گزار ہو جائے

ان دنوں دوستی بڑھا رہا ہوں

جو بھی چاہے شمار ہو جائے

Tuesday, 12 March 2024

لگا لیتے ہیں سینے سے اجازت کی طرح تم کو

 لگا لیتے ہیں سینے سے اجازت کی طرح تم کو

محبت کی ہے ہم نے تو محبت کی طرح تم کو

ہمیشہ ہم نے دیکھا ہے تقدس کی نگاہوں سے

ہمیشہ ہم نے سوچا ہے عبادت کی طرح تم کو

مرے سینے پہ جس لمحے کبھی روئے ہو سر رکھ کر

اسی لمحے میں پایا سخاوت کی طرح تم کو

Tuesday, 5 March 2024

سنو جاناں غم دنیا کی کثرت ہے یہاں پر

 سنو جاناں غم دنیا کی کثرت ہے یہاں پر

تمہیں میری مجھے تیری ضرورت ہے یہاں پر

ہمارے دل میں رہ سکتی ہو شہزادی کی صورت

ازل سے حسن والوں کی حکومت ہے یہاں پر

وہاں تم شہر کی گلیوں میں نیندوں کو سمیٹو

مِرا ہر خواب زندہ ہے سلامت ہے یہاں پر

Monday, 12 February 2024

قیامت ہے مگر بھولی ہوئی ہے

 قیامت ہے مگر بُھولی ہوئی ہے

بچھڑنے کی وبا پھوٹی ہوئی ہے

تِری آنکھوں کے حلقے کہہ رہے ہیں

کہ تجھ سے زندگی رُوٹھی ہوئی ہے

مِری وحشت مِرے جانے سے پہلے

کسی کی آنکھ میں ٹھہری ہوئی ہے

Thursday, 25 January 2024

وحشت دل نہ جب مٹائی گئی

 وحشتِ دل نہ جب مِٹائی گئی

عصر پڑھ کے صدا لگائی گئی

ذِکر چھیڑا اُداس لوگوں کا

اور میری غزل سُنائی گئی

راستے میں بہت اندھیرا تھا

بات سے روشنی بنائی گئی

Wednesday, 14 December 2022

ہم کو بے شک تو برا جانتا ہے

 ہم کو بے شک تو بُرا جانتا ہے

شہر کی آب و ہوا جانتا ہے

میں تو چُپ ہوں کہ زمانہ نہ سُنے

اور وہ منظر سے ہٹا جانتا ہے

اس کی آنکھوں کا مجھے پوچھتا ہے

اچھی نظموں کی فضا جانتا ہے

Monday, 17 October 2022

کچھ بھی مت یاد دلاؤ مجھ کو

کچھ بھی مت یاد دلاؤ مجھ کو

جانا ہے چھوڑ کے جاؤ مجھ کو

اے مِرے خواب چُرانے والو

اس کی آنکھوں سے مِٹاؤ مجھ کو

یہ محبت تو فقط دھوکا ہے

مت کوئی خواب دِکھاؤ مجھ کو