جن کا دل ہی مزار ہو جائے
ان پہ واجب ہے دار ہو جائے
اب تو ممکن ہے جو ملے ہم سے
وہ تہجد گزار ہو جائے
ان دنوں دوستی بڑھا رہا ہوں
جو بھی چاہے شمار ہو جائے
جن کا دل ہی مزار ہو جائے
ان پہ واجب ہے دار ہو جائے
اب تو ممکن ہے جو ملے ہم سے
وہ تہجد گزار ہو جائے
ان دنوں دوستی بڑھا رہا ہوں
جو بھی چاہے شمار ہو جائے
لگا لیتے ہیں سینے سے اجازت کی طرح تم کو
محبت کی ہے ہم نے تو محبت کی طرح تم کو
ہمیشہ ہم نے دیکھا ہے تقدس کی نگاہوں سے
ہمیشہ ہم نے سوچا ہے عبادت کی طرح تم کو
مرے سینے پہ جس لمحے کبھی روئے ہو سر رکھ کر
اسی لمحے میں پایا سخاوت کی طرح تم کو
سنو جاناں غم دنیا کی کثرت ہے یہاں پر
تمہیں میری مجھے تیری ضرورت ہے یہاں پر
ہمارے دل میں رہ سکتی ہو شہزادی کی صورت
ازل سے حسن والوں کی حکومت ہے یہاں پر
وہاں تم شہر کی گلیوں میں نیندوں کو سمیٹو
مِرا ہر خواب زندہ ہے سلامت ہے یہاں پر
قیامت ہے مگر بُھولی ہوئی ہے
بچھڑنے کی وبا پھوٹی ہوئی ہے
تِری آنکھوں کے حلقے کہہ رہے ہیں
کہ تجھ سے زندگی رُوٹھی ہوئی ہے
مِری وحشت مِرے جانے سے پہلے
کسی کی آنکھ میں ٹھہری ہوئی ہے
وحشتِ دل نہ جب مِٹائی گئی
عصر پڑھ کے صدا لگائی گئی
ذِکر چھیڑا اُداس لوگوں کا
اور میری غزل سُنائی گئی
راستے میں بہت اندھیرا تھا
بات سے روشنی بنائی گئی
ہم کو بے شک تو بُرا جانتا ہے
شہر کی آب و ہوا جانتا ہے
میں تو چُپ ہوں کہ زمانہ نہ سُنے
اور وہ منظر سے ہٹا جانتا ہے
اس کی آنکھوں کا مجھے پوچھتا ہے
اچھی نظموں کی فضا جانتا ہے
کچھ بھی مت یاد دلاؤ مجھ کو
جانا ہے چھوڑ کے جاؤ مجھ کو
اے مِرے خواب چُرانے والو
اس کی آنکھوں سے مِٹاؤ مجھ کو
یہ محبت تو فقط دھوکا ہے
مت کوئی خواب دِکھاؤ مجھ کو