ہم تیری دنیا میں اپنے رنگ بھرتے رہ گئے
اور تختی پر ہمارے نام لِکھے رہ گئے
بس اُسے چُھونے لگے تھے اور اچانک رُک گئے
ہم لبِ دریا تک آئے، اور پیاسے رہ گئے
اے میرے ہنس مُکھ تیری یادوں کے قصّے چھیڑ کر
جو تیری باتوں پہ ہنستے تھے وہ روتے رہ گئے
ہم تیری دنیا میں اپنے رنگ بھرتے رہ گئے
اور تختی پر ہمارے نام لِکھے رہ گئے
بس اُسے چُھونے لگے تھے اور اچانک رُک گئے
ہم لبِ دریا تک آئے، اور پیاسے رہ گئے
اے میرے ہنس مُکھ تیری یادوں کے قصّے چھیڑ کر
جو تیری باتوں پہ ہنستے تھے وہ روتے رہ گئے
روگ
ایک سہما ضعیف مالی
اپنی مُٹھی میں درد تھامے
آنسوؤں سے یہ کہہ رہا تھا؛
چند پتّے یقین جانو
ٹُوٹتے ہیں بہار میں بھی
دیوانے کی باتیں
آؤ چلو کچھ سپنوں کو
ہم جاگتی آنکھیں دیکھیں
اوڑھ کے چادر خواہش کی
اُس دیس میں راتیں کاٹیں
جہاں سردی جان نہ لیتی ہو
جہاں دُھوپ فضا کی بیٹی ہو
مسافروں کو تھکن گام گام ہوتی ہے
کرو قیام کہ ہمت تمام ہوتی ہے
ہماری سمت بتا اے مِرے ستارہ شناس
کہ ایک دن میں کئی بار شام ہوتی
پلک جھپکنا گنہگار کر رہا ہے مجھے
وہ اس وثوق سے محوِ کلام ہوتی