Showing posts with label کمیل کاظمی. Show all posts
Showing posts with label کمیل کاظمی. Show all posts

Saturday, 3 February 2024

ہم تیری دنیا میں اپنے رنگ بھرتے رہ گئے

 ہم تیری دنیا میں اپنے رنگ بھرتے رہ گئے

اور تختی پر ہمارے نام لِکھے رہ گئے

بس اُسے چُھونے لگے تھے اور اچانک رُک گئے

ہم لبِ دریا تک آئے، اور پیاسے رہ گئے

اے میرے ہنس مُکھ تیری یادوں کے قصّے چھیڑ کر

جو تیری باتوں پہ ہنستے تھے وہ روتے رہ گئے

Monday, 25 December 2023

چند پتے یقین جانو ٹوٹتے ہیں بہار میں بھی

 روگ


ایک سہما ضعیف مالی

اپنی مُٹھی میں درد تھامے

آنسوؤں سے یہ کہہ رہا تھا؛

چند پتّے یقین جانو

ٹُوٹتے ہیں بہار میں بھی

Tuesday, 14 February 2023

آؤ چلو کچھ سپنوں کو ہم جاگتی آنکھیں دیکھیں

دیوانے کی باتیں


آؤ چلو کچھ سپنوں کو

ہم جاگتی آنکھیں دیکھیں

اوڑھ کے چادر خواہش کی

اُس دیس میں راتیں کاٹیں

جہاں سردی جان نہ لیتی ہو

جہاں دُھوپ فضا کی بیٹی ہو

Thursday, 22 September 2022

مسافروں کو تھکن گام گام ہوتی ہے

 مسافروں کو تھکن گام گام ہوتی ہے

کرو قیام کہ ہمت تمام ہوتی ہے

ہماری سمت بتا اے مِرے ستارہ شناس

کہ ایک دن میں کئی بار شام ہوتی

پلک جھپکنا گنہگار کر رہا ہے مجھے

وہ اس وثوق سے محوِ کلام ہوتی